خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 845
خطبات طاہر جلد 17 845 خطبہ جمعہ 4 دسمبر 1998ء زیادہ انگریزی نہیں آتی تھی وہ 100 کا مطلب two سمجھا تو اس نے کہا I love you three۔انگریزی میں Two کا مطلب دو اور 100 کا مطلب ہے بھی۔تو ابا نے تو یہ کہا تھا کہ میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں۔وہ سمجھا یہ کہہ رہے ہیں میں تم سے دو محبتیں کرتا ہوں۔تو اس نے کہا پھر میں تم سے تین محبتیں کرتا ہوں۔تو عام طور پر بچے کہتے ہیں مگر باپ کہہ رہا ہے یہاں جس سے بڑھ کر کسی انسان کا تصور نہیں ہوسکتا وہ معاذ کا ہاتھ پکڑ کے کہتا ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں۔انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ سایہ تم میں بھی محبت کرتا ہوں۔تب آپ نے محبت کا مفہوم اسے سکھایا اور غالباً یہی وجہ تھی جو اس کو محبت کے اظہار میں پہل کر کے اس کے دل میں یہ تمنا بیدار کی کہ پوچھے تو سہی محبت ہوتی کیا ہے۔آنحضور صلی ہی تم نے فرمایا اچھا تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو پھر کسی نماز میں یہ دعانہ چھوڑنا۔رَبِّ أَعِلَى عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ: کہ اے میرے اللہ ! أَعِنِّى عَلَى ذكرك میں تیرے ذکر پر تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور تیرے شکر پر تجھ سے مدد چاہتا ہوں اور تیری عبادت کے حُسن پر تجھ سے مدد چاہتا ہوں۔اب اس کا کیا تعلق ہوا محبت سے۔اصل بات یہ ہے کہ جس سے محبت کی جائے ویسا انسان کو ہونا چاہئے۔یہ تو نہیں ہوسکتا کہ کسی سے محبت ہو اور انسان اس کے عادات واخلاق سے دور بھاگے اور عادات و اطوار سے کوئی اس کا تعلق نہ ہو۔جب انسان انسان سے محبت کرتا ہے تو ویسا بننے کی کوشش کیا کرتا ہے تو اس طرح رسول اللہ سلیم نے معاذ بن جبل کو محبت کی گہرائی کا راز سمجھا دیا۔اور ہم سب کو بھی ان کے حوالے سے یہ نصیحت ملی کہ اگر تم مجھ سے ، یعنی رسول اللہ صلی یا یہ تم گویا یہ فرما رہے ہیں، اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو اپنے لئے یہ دعا ئیں نہ بھولنا کبھی۔رَبِّ أَعِنِي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ۔اے میرے رب ! اپنے ذکر پر میری مدد فرما اور اپنے شکر پر میری مدد فرماور نہ میں نہ ذکر کا حق ادا کر سکوں گا نہ شکر کا حق ادا کر سکوں گا۔وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ اور یہ اس شکر کا معراج ہے یعنی عبادت اور اپنی عبادت میں حسن پیدا کرنے پر میری مدد فرما۔حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت ہے۔مسند احمد بن حنبل سے لی گئی ہے۔حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ لی ایم نے فرمایا عَلَى الْمِنْبَرِ جب کہ آپ صل للہ الہ سلم منبر پر کھڑے تھے :