خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 825
خطبات طاہر جلد 17 825 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء اس کی پوری قیمت ادا کرو۔اگر یہ کر رہا ہے تو جوں جوں اللہ کی طرف خیال جاتا ہے ساتھ ہی اس کے کام کی ذمہ داری کی طرف بھی خیال بڑھے گا ، وہ کم نہیں ہوگا۔اس کے نتیجہ میں احمدی ملازمین اور کاروبار کرنے والوں کی قیمت اور قدر دُنیا کی نگاہ میں بڑھتی ہے، کم نہیں ہوتی اور ایسے معاملات اکثر میرے سامنے آتے رہتے ہیں۔بعض نوجوانوں نے بتایا کہ جب ہم شروع میں انٹرویو دے رہے تھے تو انٹرویو لینے والے نے کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی مگر چونکہ کامیاب ہو گئے تھے اس لئے ہمیں ملا زمت دے دی لیکن جب ملازمت کے بعد مالکوں نے دیکھا ، کہ بے حد ذمہ داری سے کام کرتا ہے یہ شخص ایسی ذمہ داری سے اور کوئی ایسا نہیں کرتا۔تو دن بدن ہماری قدر بڑھتی رہی اور اس کے نتیجے میں ہمیں ترقیات بھی جلد جلد ملنی شروع ہو گئیں۔یہ جو مضمون ہے بہت پھیلا ہوا ہے جماعت احمدیہ عالمگیر پر برابر اطلاق پا رہا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تبتل کے نتیجہ میں آپ کے رزق کم نہیں ہوئے بلکہ بہت بڑھ گئے ہیں۔یہ تبتل ہے جس کو اختیار کئے رکھیں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کے اموال میں بہت برکت پڑے گی اور جو اس طرح اللہ کے ذکر سے اموال بڑھیں وہ تو ویسے ہی بابرکت ہوتے ہیں۔ان کا تھوڑا بہت ہوتا ہے لیکن وہ تھوڑا رہتا نہیں۔اللہ اس تھوڑے کو بڑھاتا چلا جاتا ہے۔پس یہ خدا کی راہ میں برکت کا مضمون ہے۔فرمایا: تاجر اپنے کاروبار تجارت میں اور زمیندار اپنے امور زراعت میں اور بادشاہ اپنے تخت حکومت پر بیٹھ کر غرض جو جس کام میں ہے اپنے کاموں میں خدا کو نصب العین رکھے اور اس کی عظمت اور جبروت کو پیش نظر رکھ کر اس کے احکام اور اوامر اور نواہی کا 66 لحاظ رکھتے ہوئے جو چاہے کرے۔(محاورہ ہے ) اللہ سے ڈر اور سب کچھ کر “ (الحکم جلد 12 نمبر 50،49 صفحہ: 4،3 مؤرخہ 26، 30 اگست 1908ء) تو یہ محاورہ آپ نے استعمال فرما کر اس محاورہ کے صحیح معنی بھی ہمیں سمجھا دئے۔بعض جہلاء اس کا یہ مطلب لیتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتارہ اور پھر جو مرضی کرتا چلا جا، ہر قسم کی بے حیائیاں، ہر قسم کے فسق و فجور میں مبتلا ہو جا مگر یا درکھنا اللہ سے ضرور ڈرنا۔اللہ سے ڈرنا کیسا ہوا۔اگر خدا کے احکامات کی نافرمانی واضح طور پر ہورہی ہے اور انسان اس کے نتیجہ میں حیا کی بجائے بے حیائی میں بڑھ رہا ہے تو اسے اللہ سے ڈرنا نہیں کہتے مگر بعض صوفیاء نے یہ بھی معنی لیا ہوا ہے اور اس کے نتیجہ میں دُنیا کو بہکا دیا ہے۔اللہ سے ڈر