خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 824 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 824

خطبات طاہر جلد 17 824 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء میرے لئے آسمان سے کوئی رزق نہیں اتارے گا۔یہ مضمون ہے جس کو خوب اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے ورنہ ہمارے وہ مخلص احمدی جو یہ مضمون سنیں گے تو خطرہ ہوتا ہے بعض دفعہ کہ وہ سارا کاروبار چھوڑ کے گھر نہ بیٹھ جائیں۔اگر وہ چھوڑ کے بیٹھ جائیں گے تو دین کے کام کون چلائے گا۔’ایسا ہی ایک انسان ان تمام مشاغل کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حقوق کو ادا کر سکتا ہے اور دین کو دنیا پر مقدم رکھ کر بڑی عمدگی سے اپنی زندگی گزار سکتا ہے۔“ اس کے بعد فرمایا: ( بدر قادیان جلد 6 نمبر 11 صفحہ: 6 مؤرخہ 14 مارچ 1907ء) ہم یہ نہیں کہتے کہ زراعت والا زراعت کو اور تجارت والا تجارت کو ، ملازمت والا ملازمت کو اور صنعت و حرفت والا اپنے کاروبار کو ترک کر دے اور ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعَ عَنْ ذِكْرِ اللهِ (النور : 38) کہ ان کو نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی سود ایا دنیا کا کارو بار اللہ کے ذکر سے غافل کر سکتا ہے۔فرمایا، یہ والا معاملہ ہو۔دست با کار دل با یار والی بات ہو۔“ کہ کام تو ہاتھ پر ہے اور دل یار کی طرف ہے۔یہ جو صورت حال ہے اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ احمدی تاجر اور کاروبار کرنے والے کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں اور دُنیا میں بھی احمدی کی مانگ بڑھ جاتی ہے۔اگر انسان دفتر میں بیٹھا کام ترک کر دے۔کوئی پوچھے اس سے کیا کر رہے ہو؟ کہے کہ جی میں تو اللہ کو یاد کر رہا ہوں۔وہ کہے گا پاگل میں نے تمہیں روٹی دی ہے رزق دیتا ہوں اس واسطے کہ تو نے میرا کام کرنا ہے اگر اس طرح اللہ کو یاد کرنا ہے تو گھر جاؤ، چھٹی کرو۔تو یہ تو انتہائی بے وقوفی ہوگی۔اگر یہ طریق کار جماعت اختیار کرناشروع کرے تو ساری جماعت حکمی ہو کے گھر بیٹھ جائے گی۔اس کے بالکل برعکس مضمون ہے۔دست با کار دل بایار یہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بہترین نسخہ عطا فرمایا ہے اور جو دست با کار رکھتا ہے اور دل بایار رکھتا ہے اس کا دست با کار ہونے میں جو مرتبہ اور مقام ہے وہ دنیا میں دست با کار ہونے والے سے بہت اونچا ہو جاتا ہے۔وہ جب ہر لمحہ اللہ کو یاد کر رہا ہوتا ہے تو اللہ کا حکم ہے کہ جو کام کسی کا کرو امانت سے کرو، جو تمہیں دیا جائے اس کا پورا بدلہ اتارو،