خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 823 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 823

خطبات طاہر جلد 17 823 خطبہ جمعہ 27 نومبر 1998ء یہاں کون سا بوجھ ہے جس کا ذکر فرما رہے ہیں؟ فرمایا کہ خدا کے ذکر کی خاطر ان معنوں میں ہلکا ہو جانا کہ وہ دُنیا کی ذمہ داریاں جو اللہ ہی نے اس پر ڈالی ہیں وہ اتار پھینکے اور پھر گویا ہلکا پھلکا ہو کے اللہ کی طرف دوڑے یہ ہرگز تبتل نہیں۔یہ اس ٹو والی بات ہے جس پر جب بوجھ ڈالو بیٹھ جائے گا جب اتار دو گے تو چل پڑے گا۔پھر فرمایا: وہ فقیر جو دنیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتا ہے۔(اب دیکھیں کتنی بات واضح ہوگئی ہے ) وہ فقیر جو دنیوی کاموں سے گھبرا کر گوشہ نشین بن جاتا ہے وہ ایک کمزوری دکھلاتا ہے۔اسلام میں رہبانیت نہیں۔ہم کبھی نہیں کہتے کہ عورتوں کو اور بال بچوں کو ترک کر دو اور دنیوی کاروبار کو چھوڑ دو۔نہیں۔بلکہ ملازم کو چاہئے کہ وہ اپنی ملازمت کے فرائض ادا کرے اور تاجرا اپنی تجارت کے کاروبار کو پورا کرے لیکن دین کو مقدم رکھے۔“ یہ ہے تبتل۔ساری ذمہ داریاں دُنیا کی سرانجام دے اپنے اہل وعیال کی ذمہ داریاں بھی پوری طرح ادا کرے لیکن جہاں ان کا اللہ کی محبت سے ٹکراؤ پیدا ہو وہاں ان ذمہ داریوں کو اتار پھینکے اور اللہ کی محبت کو اختیار کر لے۔اس مضمون کو مزید واضح فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: اس کی مثال خود دنیا میں موجود ہے کہ تاجر اور ملازم لوگ باوجود اس کے کہ وہ اپنی تجارت اور ملازمت کو بہت عمدگی سے پورا کرتے ہیں پھر بھی بیوی بچے رکھتے ہیں اور 66 ان کے حقوق برابر ادا کرتے ہیں۔“ یہاں مراد یہ ہے کہ دُنیا کے شریف لوگ یہ کام کیا کرتے ہیں مگر جو شریف نہ ہوں وہ تو یہ کام نہیں کرتے اور آج کل ان کی اکثریت ہے۔وہ دُنیا کمانے میں اتنا محو ہوتے ہیں کہ وہ دُنیا کی خاطر دُنیا کماتے ہیں نہ کہ بیوی بچوں کے حالات سدھارنے کی خاطر۔اور نتیجہ جس حد تک ان سے ممکن ہو بیوی بچوں سے الگ ہی رہتے ہیں۔تو اس میں یہ مفہوم داخل ہے کہ دُنیا میں وہ لوگ جو ذمہ دار ہوں وہ یہ کرتے ہیں اس لئے دین میں وہ لوگ جو ذمہ دار ہیں ان کو یہ کرنا چاہئے کہ دُنیا کے لئے جو محنت کریں مقصد اعلیٰ ہی ہو کہ اللہ کی رضا کی خاطر وہ دُنیا کے کاروبار میں پڑے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس طرح کماؤں اس لئے میں اسے کماتا ہوں ورنہ اگر میں ہاتھ تو ڑ کر بیٹھ جاؤں گا تو اللہ تعالیٰ