خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 805
خطبات طاہر جلد 17 805 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء دیکھ لیں پھر فارسی کلام دیکھ لیں ، پھر اُردو کلام دیکھ لیں۔پنجاب کے دیہات کا ایک بچہ اس شان کا زبان دان بن جاتا ہے کہ بہت بڑے بڑے اُس زمانہ کے اُردو لکھنے والوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال پر لکھا کہ آپ کے قلم میں تو جادو تھا، آپ کی مٹھیاں جیسے بیٹری کی تاروں کی مٹھیاں ہوں ان کے ہاتھوں میں طاقتیں تھمائی گئی تھیں اور جب لکھتے تھے تو ایک لکھنے والے نے لکھا که بلندی ہند میں کوئی ایسا لکھنے والا نہیں۔اب آپ سوچ لیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”مجھ میں کوئی ہنر نہیں تھا تو بالکل سچ فرما رہے ہیں۔ایسے بچے کو جو ایک دیہاتی ماحول میں پلا ہو اس قدر زبان دانی، ایسا حیرت انگیز کمال ہو کہ آپ کے بعض اشعار ایسے ہیں بلکہ اکثر اشعار اگر آپ غور کریں تو ایسے ملیں گے کہ وہ آج بھی پڑھیں تو لگتا ہے ابھی زندہ ہیں ، دھڑک رہے ہیں۔جتنا آپ غور کریں مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام پر اتنا ہی آپ اس بات کو محسوس کریں گے کہ اور کسی کلام میں یہ بات نہیں ہے۔نثر کا ہو یا نظم کا اس کلام کی زندگی الگ ہے۔وہ دھڑکتا ہوا زندہ وجود ہے ایسا کلام جس پہ بھی موت نہیں آیا کرتی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب یہ کہتے ہیں خدا کے حضور کہ میرے پاس کوئی ہنر نہیں تھا مجھے چن لیا تو بالکل درست ہے واقعہ کوئی ہنر نہیں تھا مگر ایک ہنر تھا جو تقویٰ تھا۔اللہ کا خوف ،اللہ سے محبت اور یہ بہت بڑا بہنر ہے۔تو تمام وہ احمدی جو چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں بہنر عطا کرے، ان کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ تقویٰ کے بغیر کبھی کوئی ہنر نہیں مل سکتا۔خصوصاً ایسے لوگوں کو جن کی تمنائیں اور اُمنگیں سب دین سے وابستہ ہوں، اللہ کی ذات سے تعلق رکھتی ہوں۔تو آپ میں سے سب کو تقویٰ کی تلاش کرنی چاہئے ، تقویٰ ہی پر زور دینا چاہئے اور تقویٰ نصیب ہو جائے تو سب کچھ نصیب ہو گیا کیونکہ تقویٰ مل جائے تو پھر اللہ مل جاتا ہے اور اللہ مل جائے تو پھر اور کیا باقی رہ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہو۔“ ( البدر جلد 2 نمبر 16 صفحہ:123 مؤرخہ 8 مئی 1903ء) کہ اگر تو میرا ہو جائے تو سارا جگ تیرا ہے۔تیرے پاس اور کیا رہ جائے گا جو تیرا نہیں ہے، ساری دُنیا تیری ہو جائے گی۔تو یہ گر ہے خدا تعالیٰ کے ہو جانے کا مگر یہ خاص بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ جو خدا