خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 806
خطبات طاہر جلد 17 806 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء کے ہوتے ہیں ان کو دنیا کی پرواہ بھی نہیں ہوتی۔دنیا ملتی ہے اس طرح کہ ٹھونسی جاتی ہے ان پر۔دنیا کی خواہش کی وجہ سے وہ خدا سے نہیں ملا کرتے۔خدا کی خواہش کی وجہ سے دنیا ان سے ملتی ہے۔یہ دو چیزوں میں بہت بڑا فرق ہے۔بعض لوگ اس لئے ملتے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ اس کے ملنے سے خدا ملے گا اور اس کے ساتھ ان کا جو کچھ ہے وہ سب حاضر کر دیتے ہیں۔تو یہ دو رخ ہیں ان کو سمجھنا چاہئے۔ایک خدا کی طرف رُخ ہے ایک دنیا کی طرف رُخ ہے۔جس کا دنیا کی طرف رُخ ہوگا اگر وہ چاہے کہ خدامل جائے اور پھر مجھے دنیا ملے تو ہمیشہ نامرادر ہے گا ، ناکام رہے گا۔نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم منشی گھنشیام لال عاصی دہلوی) ان کو کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا اور جو واقعۂ خدا چاہتا ہے اور دُنیا کی ادنی بھی لگن نہیں رکھتا یا نیت نہیں رکھتا کہ مجھے دُنیا ملے اسے اللہ تعالیٰ ضرور دنیا عطا کیا کرتا ہے مگر اس طرح کہ دُنیا سے اس کا تعلق ایک سرسری سا تعلق ہے کبھی بھی وہ اس کا مقصود نہیں بنتی۔یہ امور ہیں جنہیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی مضمون میں مزید واضح فرماتے چلے جارہے ہیں۔” میں گمنام تھا مجھے شہرت دی اور اس قدر جلد شہرت دی کہ جیسا کہ بجلی ایک طرف سے دوسری طرف اپنی چمکار ظاہر کر دیتی ہے۔“ اس اقتباس کو پڑھ کے مجھے ہمیشہ MTA یاد آتا ہے کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر اور آپ کا ذکر واقعہ بجلی کی چہکار کی طرح گل عالم میں پھیل رہا ہے اور ایک لمحے سے بھی کم عرصے میں آپ کی آواز ، آپ کا کلام، آپ کا ذکر ، آپ کے صحابہ کا ذکر یہ ساری دنیا میں پھیل جاتا ہے اور الفاظ خدا تعالیٰ نے آپ کی زبان سے ایسے نکال دئے جنہوں نے لازماً پورا ہونا تھا ورنہ اس زمانے میں ”جیسا کہ بجلی ایک طرف سے دوسری طرف اپنی چمکا ر ظاہر کر دیتی ہے۔ظاہری طور پر اس طرح نہیں تھا۔شہرت بہت نصیب ہوئی لیکن بجلی کی چمکار والی بات میرے نزدیک خدا نے آپ کے منہ سے کہلوائی اور جو مستقبل میں لازماً پوری ہوئی تھی۔” اور میں نادان تھا مجھے اپنی طرف سے علم دیا۔(اس میں کوئی شک نہیں سارا علم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ ہی کی طرف سے عطا ہوا ہے ) اور میں کوئی مالی وسعت نہیں رکھتا تھا اس نے کئی لاکھ روپے کی میرے پر فتوحات کیں۔“