خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 804
خطبات طاہر جلد 17 804 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء بعض لوگ جب کسی شخص سے توقع رکھتے ہیں کہ یہ بڑا بن جائے گا یا بڑا اُن کی نظر میں ہو گیا ہو تو اس کے گرد ہجوم اکٹھا ہو جایا کرتا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کوئی ایسا کمال ظاہر کر کے منتشر نہیں کیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو یہ توقع ہو کہ یہ بڑا آدمی بنے والا ہے، اس لئے ابھی سے اس کے گردا کٹھے ہو جاؤ۔اور جو بڑا آدمی بنتے ہوئے دیکھ کر اس کے گرد اکٹھے ہوا کرتے ہیں ان میں خلوص ہوتا ہی نہیں وہ دراصل اس کی بڑائی نہیں بلکہ اپنے نفس کی بڑائی کے لئے اکٹھے ہوا کرتے ہیں۔اس لئے یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ سلسلہ نبوت کو اس طرح جاری فرماتا ہے کہ صرف مخلصین اکٹھے ہوں۔اور جن کو اپنے نفوس کی پرواہ ہے اور بنی نوع انسان یا اللہ کی پرواہ نہیں وہ اکٹھے ہوتے ہی نہیں ان کو اپنے کام سے کام ہے اس شخص کو تنہا الگ پڑا رہنے دیتے ہیں۔تو فرمایا: نہ کسی کو توقع تھی کہ مجھے یہ رتبہ ملے گا بلکہ میں خود اس آئندہ شان و شوکت سے محض بے خبر تھا۔( وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک شان وشوکت میرے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے بنائی جائے گی ) اور سچ تو یہ ہے کہ میں کچھ بھی نہ تھا۔“ یعنی ، شان وشوکت ، کہتے ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جذبۂ انکساری نے اس بات کو کھول دیا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ کوئی ایسی شان و شوکت ہے جو مجھے اپنی طاقتوں ، اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ملی ہے۔فرمایا: میں کچھ بھی نہیں تھا بعد میں خدا نے محض اپنے فضل سے نہ میرے کسی ہنر سے مجھے چن لیا۔میں گمنام تھا مجھے شہرت دی اور اس قدر جلد شہرت دی کہ جیسا کہ بجلی ایک طرف سے دوسری طرف اپنی چمکا ر ظاہر کر دیتی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحه : 347) اب دیکھ لیجئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فرمانا کہ نہ میرے کسی ہنر سے مجھے چن لیا۔یہ بہنر تو تھا مگر ان معنوں میں بھر نہیں جن معنوں میں دُنیا بھر سمجھتی ہے۔آپ کا ہنر تقویٰ تھا لیکن دنیاوی علوم آپ کو کیا حاصل تھے ؟ ایک معمولی استاد سے جو دیہات کا استاد ہوتا ہے! آپ نے چند اسباق کچھ عرصہ تک پڑھے تھے اور اس کے نتیجہ میں جو وجود نکلا ہے وہ تمام دنیا میں عربی کا چیلنج دینے والا اور فصاحت و بلاغت میں ایک حیرت انگیز کمال دکھانے والا انسان نکلا ہے۔عربی آپ کا کلام