خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 803 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 803

خطبات طاہر جلد 17 803 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء زیادہ جھک جایا کرتا تھا یہاں تک کہ جب فتح مکہ کے وقت حضور اکرم صلی یتیم مکہ میں داخل ہوئے تو کجاوے سے سر لگ گیا تھا، جھکتے جھکتے وہیں سجدہ کیا ہوا تھا۔تو یہ ایک مومن کی غیر مومن سے ایک امتیازی شان ہے۔مومن کو جب اللہ تعالیٰ کا میابیاں عطا فرماتا ہے تو اس کا سر اور بھی جھک جاتا ہے۔کا فر کو جب کامیابیاں عطا کرتا ہے یا کافر سمجھتا ہے کہ مجھے خود اپنے زور بازو سے کامیابیاں نصیب ہو رہی ہیں تو اس کا سر اور اکڑنے لگتا ہے۔مومن کا سر اٹھتا ہے تو خدا کے حضور نہیں، بعض دفعہ رسول اللہ صلی سلیم بھی سر اونچا کر کے خود چلے اور لوگوں کو چلنے کی تلقین فرمائی وہ غیروں پر اس اظہار کے لئے کہ خدا نے دیکھو ہمیں کیسا اعزاز بخشا ہے ورنہ نفس بہر حال بچھا ہی رہتا ہے اور ہمیشہ کامیابیوں کے بعد اور بھی زیادہ بچھتا ہی چلا جاتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جو یہ فرمایا: ” آرہے ہیں اور نقد اور جنس اور ہر ایک قسم کے تحائف اس کثرت سے لوگوں نے دئے اور دے رہے ہیں جن کا میں شمار نہیں کر سکتا۔اب جو یہ سلسلہ بڑھ گیا ہے اس میں تو واقعی آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکتیں کس طرح جاری ہیں۔اور یہ سلسلہ جو ہے مختلف ملکوں سے، مختلف دنیا سے تحائف کے آنے کا سلسلہ یہ کسی شمار میں نہیں آسکتا اور یہ سب اللہ تعالیٰ کی وہ شان ہے جو نبیوں پر اور نبیوں کے غلاموں پر ظاہر کیا کرتا ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ” میں ایک زاویہ گمنامی میں مستور و مجوب تھا اور میرے ساتھ ایک بھی انسان نہ تھا اور نہ کسی کو تو قع تھی کہ مجھے یہ مرتبہ ملے گا۔“ زاویہ جو دو خطوط ، دو لکیریں ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں ، ایک مرکز سے تو یہ کونہ جو ہے اس کو زاویہ کہتے ہیں اور سارے اس عرصے میں جب کہ دو خطوط ایک دوسرے سے جدا ہوتے چلے جاتے ہیں سب سے تنگ زاویہ ہوا کرتا ہے تو اس لئے اُردو میں زاویہ کا محاورہ ایک الگ سی جگہ بالکل خاموش سی جگہ شمار کی جاتی ہے ویسے زاویہ تو Angle کو کہتے ہیں مگر یہاں زاویہ سے مراد گوشیہ تنہائی ہے۔ایک انسان اگر چھپنا چاہے تو چھپتے چھپتے زاویے سے آگے تو نہیں نکل سکتا۔تو مراد یہ ہے کہ ایسا عزلت نشین تھا، ایسا تنہائی پسند تھا کہ جس حد تک مجھے توفیق تھی میں ایک کونے میں چھپا رہتا تھا۔اور میرے ساتھ ایک بھی انسان نہ تھا اور نہ کسی کو توقع تھی۔یہ بھی ایک یا در کھنے والی بات ہے کہ