خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 802 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 802

خطبات طاہر جلد 17 66 802 خطبہ جمعہ 20 نومبر 1998ء یہ آغاز نبوت کا حال ہے اور ہر نبوت اسی طرح آغاز فرماتی ہے اس میں کوئی استثنا آپ نہیں دیکھیں گے۔جتنے بھی انبیاء علیہم السلام گزرے ہیں ان کا بچپن میں اپنا یہی حال ہوا کرتا تھا اور گوشئہ گمنامی سے خدا اُن کو کھینچ کر نکالتا ہے۔نبوت کے بعد بھی ایک قسم کا گوشئہ گمنامی پیدا ہو جاتا ہے ان لوگوں کے لئے جو نبی کے گرد اکٹھے ہوتے ہیں مگر اُس گوشتہ گمنامی میں اور اس میں ایک فرق ہے۔یہاں خدا کی نظر انتخاب پڑنے سے پہلے جو لوگ نبی بنائے جاتے ہیں ان کا حال ہے لیکن نبوت کے بعد پھر یہی سلسلہ دوبارہ خلافت میں بھی شروع ہو جایا کرتا ہے۔اس کی چند مثالیں میں آپ کے سامنے رکھوں گا مگر اس کو نبوت سے تشبیہ دینا جائز نہیں، نہ نبوت سے اس کی تعبیر کی جاسکتی ہے کیونکہ دونوں چیزوں میں بہت فرق ہے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ اقتباس پڑھتے ہوئے میں جماعت کو یہ متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ فرمایا : ” فوج در فوج لوگ قادیان میں آئے اور آرہے ہیں۔یہ جو سلسلہ ہے فوج در فوج آنے کا یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔آج جو جماعت احمد یہ مشاہدہ کر رہی ہے کہ واقعہ فوجوں کی طرح لاکھوں کی تعداد میں بعض ممالک میں احمدی بن رہے ہیں ، جماعت میں داخل ہو رہے ہیں یہ کوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت سے الگ سلسلہ نہیں ہے۔وہی سلسلہ ہے جو مسلسل جاری ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اس لئے کوئی غلط نہی یہ نہیں ہونی چاہئے کہ ہمارے زمانہ میں تو معاملہ اور بڑھ گیا ہے۔یہ ایک ہی زمانہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ اور آپ کے زمانہ میں جو پیشگوئیاں شروع میں ظاہر ہونی شروع ہوئی ہیں وہ تدریجاً اور نسبتا زیادہ تیز رفتار سے آگے بڑھتی رہی ہیں اور یہ رفتار آئندہ زمانوں میں اللہ بہتر جانتا ہے کہ کتنی قوت اور شدت اختیار کر لے گی مگر جو کچھ بھی ہوا ہے یہ اللہ کا احسان ہے اور اس احسان کے تابع ہماری گردنیں جھکی رہنی چاہئیں کیونکہ تقریباً ایک سوسال کے بعد اللہ تعالیٰ نے دوبارہ ان چیزوں میں اسی طرح تیزی پیدا کر دی جس طرح پہلے زمانہ میں پیدا فرمائی تھی اور جو ہم نے دیکھا ہے فوجوں کا نظارہ ، یہ قسمت سے قوموں کو دکھایا جاتا ہے۔پس جماعت احمدیہ کا تکبر کا تو کوئی مقام ہی نہیں ، نعوذ باللہ من ذلك، وہ تو شیطان کا کام ہے مگر فخر و مباہات بغیر تکبر کے بھی کسی طرح بھی درست نہیں۔سر جھکنا چاہئے ان کامیابیوں پر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا بھی سر جھکتا ہی رہا۔آنحضرت مصلی یتیم کا سر ہر بڑی کامیابی پہ اور بھی