خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 466
خطبات طاہر جلد 17 466 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء زیادہ ہیں کہ اگر ان کی ساری قربانیوں کو ایک طرف پھینک دیا جائے تو ایک فی صد بھی امریکہ کی جماعت کی آمد میں فرق نہیں پڑتا تھا بلکہ یہ بھی مبالغہ ہوگا ایک فیصد کہنا بھی۔اس لئے ہرگز کوئی مالی ضرورت کا احساس نہیں تھا جس کے پیش نظر میں نے یہ خطبہ دیا۔یہ احساس تھا کہ وہ لوگ جو بد نصیب ہیں وہ بچائے جاسکتے ہیں تو ان کو بچا لیا جائے۔اس ضمن میں ایک اور بات جو خاص طور پر قابل توجہ ہے جو امریکہ میں بیان نہیں کی مگر اب میں اس خطبہ میں اسے بیان کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا میں یہ بھی ہدایت ہے کہ اپنی نئی نسلوں کو بچالو اور شروع ہی سے ان کی فکر کرو اور جو ان میں سے کمانے والے ہیں ان پر لازم کر دو کہ وہ ضرور پہلے چندہ ادا کریں باقی باتیں بعد میں دیکھیں۔اگر یہ کر لیں تو بہت بڑی احمدی نسلیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ کے لئے اس شر سے بچائی جاسکتی ہیں۔امریکہ کے دورہ کے وقت بھی اور یہاں بھی ملاقات کے دوران میں نے محسوس کیا ہے کہ بہت سے احمدی بچے اور بچیاں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھے عہدوں پر نئے نئے فائز ہوئے ہیں یا فائز ہونے کی توقع رکھتے ہیں ان کے والدین کو ان کی فکر نہیں کہ اس وقت یہ اصل وقت ہے کہ ان کو سمجھایا جائے کہ تمہارا مال تم پر حرام ہے جب تک پہلے خدا کا حصہ نہ نکالو اور اس وقت ان کے لئے آسان ہے کیونکہ نو جوان نسلیں بوڑھی نسلوں کے مقابل پر نسبتا اپنے مزاج میں نرمی رکھتی ہیں یعنی ان کے اندر لوچ پائی جاتی ہے اور وہ مال کی محبت میں ابھی ایسا مبتلا نہیں ہوتیں۔وہ لوگ جنہوں نے عمریں گزار دیں مال کی محبت میں ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کی اصلاح کا وقت گزر چکا ہے وہ اللہ کے حوالے، جو چاہے ان سے سلوک فرمائے لیکن نئی نسلوں کو سنبھالنا تو نسبتاً بہت آسان ہے اور بعض ان میں سے جو مجھے ملے جن کو میں نے خود یہ نصیحت کی ، فوری طور پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا اور کہا کہ لازماً ہم ایسا ہی کریں گے۔ایسی مائیں بھی مجھے ملیں جن کو میں نے توجہ دلائی تو انہوں نے کہا کہ ہمارے دل میں یہی تمنا اٹھ رہی ہے اور اب ہم اپنے بچے کو لازماً اس بات کا پابند کریں گی کہ اگر تم میرے بچے ہو، جیسا ماؤں کا محاورہ ہے میرا دودھ بخشوانا چاہتے ہو تو سب سے پہلے اللہ کا حصہ نکالو اور باقی چیزیں پھر جس طرح چاہو اللہ تعالیٰ توفیق دے تم اس کے مطابق خرچ کرو اور بعض ماؤں نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کو یہ کہنا ہے کہ جو کچھ تم کماؤ گے اگر اس میں سے خدا کا حصہ نہ نکالا تو میرا حصہ بھی نہ نکالنا،