خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 467
خطبات طاہر جلد 17 467 خطبہ جمعہ 10 جولائی 1998ء مجھ پر حرام ہے۔جو تم کما کر خدا کے حصہ میں سے بچاتے ہو وہ مجھ پر خرچ کرو یہ نہیں ہوسکتا، یہ ناممکن ہے۔تو بہت سی خوش کن باتیں ایسی دیکھنے میں آئیں جن سے میں اُمید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہماری نئی ابھرتی ہوئی نسل کو سنبھالا جاسکتا ہے اور اگر یہ نسل سنبھل جائے تو مستقبل کی ہمیں کوئی فکر باقی نہیں رہے گی۔قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارا ایک ان کے حق میں بہتا ہوا موجیں مارتا ہوا چشمہ ثابت ہوگا جس کا پانی انگلی صدیوں میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ منتقل ہوتا چلا جائے گا اور بڑھتا چلا جائے گا۔تو اس سے بہتر تحفہ ہم اگلی صدیوں کے لئے کیا پیش کر سکتے ہیں کہ ایسی نسلیں آگے بھیجیں جو خدا کا حق نکالنے میں سب سے پہلے ہوں ، سب سے بالا ہوں اور پھر اللہ ان کو توفیق بخشے اور جو لازماً بخشا کرتا ہے، کہ وہ تمام دوسرے چندوں میں بھی بہت زیادہ آگے سے بڑھ کر ہوں۔جس کا اپنا یہ حال ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کو بھی اسی بات کی تربیت نہ دیں۔تو اس پہلو سے میں کہہ رہا ہوں کہ ایک موجیں مارتا ہوا دریا پھوٹ پڑے گا۔قوآ اَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارا یہ کہتا ہوا۔اور اگلی صدیوں کو سیراب کرے گا۔تو میں اُمید رکھتا ہوں کہ جو لوگ میں امریکہ میں پیچھے چھوڑ آیا ہوں اور وہ سب اب جو میرے مخاطب ہیں تمام دنیا کے احمدی نوجوان وہ اس جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے تھام لیں گے اور ان کو یہ سوچنا چاہئے کہ اس نیکی کا بہت لمبا اثر ہے۔ایک نہ ختم ہونے والا فائدہ پہنچنے والا ہے اور آئندہ وقتوں میں جماعت کو اس کی بڑی شدید ضرورت پیش آنے والی ہے۔آپ دیکھیں گے کہ اگلے دس پندرہ سال کے اندر حالات ایسے پیدا ہو جائیں گے کہ ان نو جوانوں کی قربانیاں ساری جماعتی ضرورتوں کو سنبھال لیں گی۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ یہ نصیحت آپ کے لئے کافی ہوگی۔ایک بات میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ جو تنبیہ میں نے کی تھی اس کا جماعت کے بہت سے مخلصین پر بہت اچھا اثر پڑا ہے۔کئی ایسے مخلص جن کو خدا نے بہت اموال سے نوازا تھا اور اس معاملہ میں غفلت کر رہے تھے اس خطبہ کے اثر سے انہوں نے مجھے یقین دلایا اور ایسے عزم صمیم کے ساتھ یقین دلا یا کہ مجھے ایک ذرہ بھی شک نہیں کہ جو بات انہوں نے کہی اس پر پورا اتریں گے۔انہوں نے کہا کہ جو کوتاہیاں ہم سے ماضی میں ہوگئیں ہم ان کو دفن کرتے ہیں اور آئندہ اپنا معاملہ اللہ سے صاف رکھیں گے ان میں سے ایسے بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کمانے والے تاجر ہیں اور تاجر کے