خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 438

خطبات طاہر جلد 17 438 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء اب اسی تعلق میں حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر کی ایک روایت بیان کرتا ہوں جو انہوں نے منشی ظفر احمد صاحب ، اپنے والد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنی اور انہی کے الفاظ میں اسے بیان کرنے کی کوشش کی ہے یعنی حضرت خلیفہ اسیح الاوّل، حضرت حکیم نورالدین کے علاوہ اور بھی بہت سے بزرگ تھے جن کی یہی تمنا تھی۔حضرت شیخ محمد احمد صاحب روایت کرتے ہیں اپنے باپ کی زبان میں۔ایک دفعہ حضور لدھیانہ میں تھے میں حاضر خدمت ہوا، یعنی حضرت منشی ظفر احمد صاحب، میں حاضر خدمت ہوا۔حضور نے فرمایا کہ آپ کی جماعت ساٹھ روپے ایک اشتہار کے لئے جس کی اشاعت ضروری تھی برادشت کرے گی؟ اب اندازہ کریں وہ زمانہ کیسا تھا ایک اشتہار کی اشاعت کے لئے آپ کو اپیل کرنی پڑی۔ساٹھ روپے کی ضرورت تھی اور جانتے تھے کس سے اپیل کرنی ہے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب عرض کرتے ہیں میں نے اثبات میں جواب دیا اور کپورتھلہ واپس آکرا اپنی اہلیہ کی سونے کی تلڑی فروخت کر دی۔اس زمانہ میں ساٹھ روپے میں سونے کی تلڑی فروخت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کافی وزنی ہوگی اور بہت قیمتی ہوگی اور احباب جماعت میں سے کسی سے ذکر ہی نہیں کیا۔آگے ان کے الفاظ ہیں بڑے مزے کی باتیں کیا کرتے تھے اور ساٹھ روپے لے کر میں اُڑ گیا۔تو دوڑتے ہوئے چلا گیا یعنی ہلکے قدموں کے ساتھ ناچتا گا تا مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔لدھیانہ جا کر پیش خدمت کئے۔چند روز بعد منشی اروڑا صاحب بھی لدھیانہ آگئے۔اب منشی اروڑا صاحب بھی غیر معمولی فدائیت کا جذبہ رکھنے والے انسان تھے۔بے حد موقع کی تلاش میں رہنے والے کہ کب جماعت کی خدمت کی توفیق ملے اور یہ خرچ کرسکیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس خیال سے کہ میں نے کہا تھا جماعت کپورتھلہ یہ رقم دے دے، اس خیال سے آپ نے سمجھا کہ کپورتھلہ نے ہی دئے ہوں گے۔یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منشی اروڑے خان صاحب سے کر دی، کہ شکریہ آپ کی جماعت بڑے موقع پر کام آئی۔ساٹھ روپے کی ضرورت تھی اور فوراً پہنچ گئے۔منشی اروڑے خان کو اتنا غصہ آیا کہ منشی ظفر احمد صاحب روایت کرتے ہیں کہ پھر ساری عمر اس شخص نے مجھے معاف نہیں کیا کہ تم ہوتے کون تھے کہ ساری جماعت کی طرف سے آپ ہی خدمت کر دو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ دیکھ لیا کہ غلطی سے بات ہو گئی ہے ان کے سامنے۔اب ان کو ٹھنڈا کروں۔آپ نے فرما یا منشی صاحب خدمت کرنے