خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 437
خطبات طاہر جلد 17 437 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء اب یہ خطوط بہت لمبے ہیں اور بڑے پر لطف بھی ہیں مگر دل گداز بھی ہیں۔میں نے تو جب بھی ان کو پڑھ کر سنانے کی کوشش کی ہے برداشت نہیں کر سکا۔ہمیشہ جذبات سے اتنا مغلوب ہو جا تا رہا ہوں کہ گلے سے ٹھیک طرح آواز نہیں نکلتی تھی لیکن ایک چھوٹا سا اقتباس نمونہ میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔تحریر کا نمونہ آپ پیش کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ لکھ رہے ہیں، یعنی حضرت حکیم نورالدین : میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔حضرت پیرو مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں۔“ اب کمال راستی کہنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ آپ تو صدیق تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جانتے تھے کہ راستی کے سوا اس کا کوئی کلام نہیں ہے مگر پھر بھی اپنے جوش میں عرض کرتے ہیں : میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہو جائے تو میں مراد کو پہنچ گیا۔“ فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ: 36،35) اگر خرچ ہو جائے میں لفظ ”اگر وہ لفظ ہے جس کے متعلق میں پہلے بات کر چکا ہوں۔روک تھی تو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف سے روک تھی۔آپ سب مال نہیں لینا چاہتے تھے اور یہ ایک ایسا اسلوب ہے ادب کا جسے جماعت کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے۔پیش کرتے ہیں بعض لوگ اور بھی ایسے ہیں اب بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ سب کچھ لے لیں لیکن میرا دل اجازت نہیں دیتا اور اس اجازت نہ دینے کا مجاز مجھے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بنایا ہے۔آپ بھی بعض موقعوں پر اجازت نہیں دیتے تھے۔اس لئے نہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو خدمت کرنے والے کے اخلاص پر شک تھا ، اس لئے کہ آپ جانتے تھے کہ سب کچھ لینا بعض خرابیاں بھی پیدا کر سکتا ہے۔ایک ان میں سے مثلاً یہ ہے کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی محرومی تنگی ہو جائے گی۔کچھ ایسے ہوں گے جو سب کچھ دے رہے ہوں گے اور کچھ ایسے ہوں گے جو بہت کچھ اپنے لئے روک رکھ رہے ہوں گے۔تو ان کے مقابل پر آ کر وہ اپنی کم مائیگی کے احساس کا شکار ہو جائیں گے لیکن یہ ایک میرا خیال ہے بہت سے اور بھی مصالح ہیں جن کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کا سب مال قبول کرنے سے احتراز فرماتے تھے۔