خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 439

خطبات طاہر جلد 17 439 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء کے بہت سے مواقع آئیں گے آپ گھبرائیں نہیں۔اس کے باوجود کہتے ہیں منشی صاحب مجھ سے ناراض رہے اور خدمت کے آپ کو بہت مواقع ملے ہیں اس میں کوئی شک نہیں۔( سیرت المہدی جلد نمبر 1 حصہ سوم، روایت نمبر 776، صفحہ :719) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات چندوں سے متعلق میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اگر کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو اسے خارج کرنا چاہئے وہ منافق ہے۔“ معاہدہ سے مراد یہ ہے کہ جب کسی شخص کو جماعت کا ممبر بنے کی توفیق ملے اور اس کے نتیجہ میں اس کو پتا ہو کہ خدا مجھے کیا دیتا ہے، مجھے کیا اس کے حضور پیش کرنا چاہئے تو یہ ایک قسم کا انسان اور خدا کے درمیان معاہدہ ہوا کرتا ہے اور اگر کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو وہ منافق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام یہاں تک لکھتے ہیں: اگر کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو اسے خارج کرنا چاہئے وہ منافق ہے اور اس کا دل سیاہ ہے۔ہم یہ ہرگز نہیں کہتے کہ ماہواری روپے ہی ضرور دو۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ معاہدہ کر کے دو جس میں کبھی فرق نہ آوے۔(اور اس معاہدہ کی مثال بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:) صحابہ کرام کو پہلے یہی سکھایا گیا تھا۔( یعنی معاہدہ کس چیز کو کہہ رہے ہیں، فرماتے ہیں: ) صحابہ کرام کو پہلے یہی سکھایا گیا تھا لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنَا تُحِبُّونَ (آل عمران: 93) (البدر جلد 2 نمبر 26 صفحہ : 202 مؤرخہ 17 جولائی 1903ء) کہ تمہیں نیکی کا کچھ پتا ہی نہیں چل سکتا، نیکی کہتے کس کو ہیں۔حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یہاں تک کہ تم اُس مال میں سے خرچ کرو جس کی محبت میں مبتلا ہو۔سو سارے لوگ جن کی ایک بھاری تعداد امریکہ میں موجود ہے وہ نیکی کا تصور بھی نہیں کر سکتے کیونکہ جس مال کی محبت میں مبتلا ہیں وہ خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے ان کو روکتا ہے۔لَنْ تَنَالُوا البر اس کا مطلب ہے کبھی بھی تم نیکی کونہیں پاسکو گے، یہ وہم وگمان ہے تمہارا تم نیکی حاصل کر لو گے، جس مال سے محبت ہو وہ خرچ نہیں کر سکتے تو نیکی کا کیا تصور۔اس تعلق میں یا درکھنا چاہئے کہ یہ آیت بتارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کے نتیجے