خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 430

خطبات طاہر جلد 17 430 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء قرآن کریم کے ظہور کا ذکر فرمایا گیا تھا۔تو ذلك ایک بعید کا صیغہ ہے جو عظمت کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت پہلے کی کہی گئی باتوں سے متعلق بھی لفظ ذلك ہی استعمال ہوگا۔تو مراد یہ ہے کہ میں اللہ سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور یہ کتاب جس کی عظمت کو انسان چھو نہیں سکتا وہ بھی بہت اونچی کتاب ہے اور الکتب ہے، کامل ہے۔لاریب فیہ اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔یہی وہ قرآن ہے جس کی تلاوت کی جارہی ہے اور ساتھ ہی یہ فرمایا گیا کہ یہی وہ قرآن ہے جس کی باتیں گزشتہ انبیاء نے بھی کی تھیں اور اپنی اپنی قوموں سے وعدہ کرتے آئے تھے کہ ایک کامل کتاب اتاری جائے گی۔پس یہی وہ کتاب ہے جو اتاری گئی ہے اور فرمایا اس کی خاص صفت یہ ہے لَا رَيْبَ فِیهِ ایک ذرہ بھی اس میں شک نہیں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں مگر هُدًى لِلْمُتَّقین ہدایت صرف متقیوں کو دے گی۔غیر متقی اس کتاب کے متعلق لاکھ شک میں مبتلا رہیں یا شک پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں تقویٰ شرط ہے ہدایت کے لئے جو یہ کتاب لے کے آئی ہے۔اگر تقویٰ سے عاری دل ہیں اگر دل بنیادی سچائی کے تصور سے ہی خالی ہیں تو ان کے لئے یہ کتاب کسی ہدایت کا موجب نہیں ہوگی۔پھر فرما یا الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ کون لوگ ہیں جو تقویٰ سے بھرے ہوئے دل رکھتے ہیں۔يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وہ غیب پر ایمان لاتے ہیں۔اب اللہ کی ذات ایک حیثیت سے غیب ہے۔روز مرہ کی زندگی میں اکثر انسانوں کی زندگی سے اللہ تعالیٰ غیب میں رہتا ہے لیکن يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کا مطلب یہ ہے کہ وہ غیب ان کے لئے حاضر ہو جاتا ہے۔وہ ایک ایسے غیب پر ایمان لاتے ہیں جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہنے والا غیب ہے۔نہ دکھائی دینے کے باوجود وہ ہمیشہ کا ساتھی ہے اور جب ایسے خدا کے اوپر ایمان لائیں جس کے ہمیشہ حاضر ہونے کا یقین دل میں ہو تو اس کے نتیجہ میں دو باتیں خود بخود پیدا ہوں گی۔يُقِيمُونَ الصَّلوة وہ نماز قائم کرتے ہیں۔نماز کو اس لئے قائم نہیں کرتے کہ ایک فرضی خدا کے تصور میں نمازیں پڑھتے ہیں کیونکہ وہ غیب جس پر ایمان ہے وہ حاضر ہو جاتا ہے اور نمازوں میں ان کے سامنے رہتا ہے۔یہی تشریح حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی ا ہم نے مختلف اصطلاحوں کے ضمن میں بیان فرمائی کہ: ” مومن کی نماز تو ایسی ہے جیسے خدا اُسے دیکھ رہا ہو یا وہ خدا کو دیکھ رہا ہو۔“ (صحيح البخاری کتاب الایمان باب سؤال جبرائيل النبي ﷺ ، حدیث نمبر : 50)