خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 431 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 431

خطبات طاہر جلد 17 431 خطبہ جمعہ 26 جون 1998ء اور دوسری بنیادی صفت یہ ہے کہ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ جو کچھ ہم نے ان کو عطا کیا ہے اس میں سے وہ ضرور خرچ کرتے ہیں یعنی اللہ کی راہ میں۔اب لفظ غیب ہے جس کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں دنیا میں کئی قسم کی خرابیاں دکھائی دیتی ہیں۔بعض لوگوں کے لئے غیب سے مراد یہ ہے کہ اللہ ان کی زندگی میں کبھی بھی حاضر نہیں ہوتا ہے وہ غائب ہی رہتا ہے۔نماز کے وقت بھی غائب ہوتا ہے اور خرچ کے وقت بھی غائب ہوتا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہمیں خدا نے عطا فرمایا ہے اس کا خدا کو بھی علم نہیں۔ہم جانتے ہیں جو ہمیں ملا ہوا ہے اور کوئی نگران نہیں۔ہم جو چاہیں خرچ کریں، جتنا چاہیں سمجھیں کہ خدا نے دیا ہے وہ چونکہ غیب ہے اس کو کیا پتا۔یعنی دینے والا تو غائب ہے اور لینے والا حاضر ہے۔اس غیب کو نہ سمجھنے کے نتیجہ میں تمام دنیا میں ان لوگوں کے چندوں میں کمزوری آجاتی ہے جو غیب کا یہ مطلب لیتے ہیں۔مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ کا بالکل الگ مفہوم ہے جس کو لے کر وہ آگے بڑھتے ہیں۔ان کے تمام چندے مبنی ہیں اس بات پر کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے ہم ہی جانتے ہیں کسی کو علم نہیں۔اللہ بھی غائب ، لوگ بھی غائب اور ہم جتنا چاہیں خرچ کریں ہم یہی کہہ سکتے ہیں ، یہی دکھا سکتے ہیں کہ دیکھو ہم دین کی راہ میں خرچ کر رہے ہیں لیکن اس شرط کو پورا نہیں کرتے اور اسی شرط کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ ان کی ایک اور صفت بعد میں بیان فرماتا ہے یعنی سورۃ البقرۃ کی وہ دس اور گیارہ آیات جن کی میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی۔يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا اپنے چندوں کے معاملات میں وہ اللہ کو بھی دھوکا دیتے ہیں اور اللہ والوں کو بھی دھوکا دیتے ہیں یعنی سمجھتے ہیں کہ دھوکا دے دیا ہے۔اب نظام جماعت سے جولوگ اپنی آمد چھپاتے ہیں نظام جماعت کا اکثر یہی سلوک ہے کہ ان کے معاملات میں اندر اتر کر ان کا جائزہ نہیں لیتا تو وہ ان سے غیب بھی رہتے ہیں اور کہتے ہیں بس اتنا ہی ہمیں خدا نے دیا تھا اتنا ہی ہم اسی حساب سے خدا کو واپس کر رہے ہیں اور اللہ کو بھی دھوکا دیتے ہیں اور ان مومنوں کو بھی جو خدا کے نظام کی حفاظت پر مامور ہوتے ہیں۔پس يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا میں آمَنُوا سے مراد نظام جماعت کا وہ حصہ ہے جو جماعت احمدیہ کے انفاق فی سبیل اللہ پر نگران ہے لیکن دھوکا دینے کی کوشش تو کرتے ہیں۔وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ وہ ہر گز دھوکا نہیں دے سکتے ، نہ دیتے ہیں مگر اپنے نفوس کو۔مرنے کے وقت ان کو سمجھ آئے گی کہ ہم کس کو دھوکا دیتے رہے ہیں اور کیا دھوکا