خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 403
خطبات طاہر جلد 17 403 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء اب یہ امریکہ میں ہیں شیخ لطیف احمد صاحب جن کا اس سارے واقعہ کے بعد مجھ سے رابطہ ہوا ہے۔اس سے آپ اندازہ کریں کہ ان کو کچھ بھی پرواہ نہیں تھی اپنی انا کے اظہار کی۔جب تک یہ دھما کے نہیں ہوئے اس وقت تک انہوں نے مناسب نہیں سمجھا کہ مجھے بھی بتائیں کہ اس سے پہلے کیا کرتے رہے ہیں۔انہوں نے کچھ اور سائنسدانوں کے نام بھی بھیجے ہیں۔ڈاکٹر منیر احمد خان صاحب کی سربراہی میں جو ٹیم بنائی گئی تھی اس میں جو احمدی سائنسدان کلیدی اسامیوں پر فائز تھے ان میں ایک شیخ لطیف احمد صاحب یہی امریکہ والے، دوسرے مرزا منور احمد صاحب کینیڈا والے۔اس کے علاوہ بھی بہت سے نام ہیں مثلاً محمود احمد شاد صاحب ٹورانٹو کینیڈا میں ہیں۔نیوکلیئر فیوژن کی مینجمنٹ میں انہوں نے بہت بڑی خدمات سرانجام دی ہیں۔شیخ لطیف صاحب کا جو کردار رہا ہے 1961ء سے 1989 ء تک، مینوفیکچر آف نیوکلیئر ریسرچ Equipment یہ انہی کا کارنامہ ہے۔1972ء میں مینوفیکچر آف یورینئم ایکسٹریکشن پائلٹ پلانٹ انہوں نے تجویز کیا۔انہوں نے اپنے سامنے بنوا کر دکھا دیا کہ یہ تجویز محض ایک خیالی تجویز نہیں ، عملاً یہ ہوسکتا ہے۔1974ء تا 1979ء پراسیسنگ آف یور مینٹم مینوفیکچرنگ نیوکلیئر فیوژن یہ بھی ان کا کارنامہ ہے۔اب یہ اس کو جو مرضی اپنے سر تھوپنے کی کوشش کرے یہ وہ حقائق ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں مندرج ہیں اور ان حقائق کو یہ مٹا سکتے ہی نہیں۔اس لئے قدیر خان صاحب کی باتیں ہوں یاکسی اور سائنسدان کی باتیں ہوں حقیقت میں یہ احمدی سائنٹسٹ ہیں جنہوں نے بہت گہری علمی خدمات سرانجام دی ہیں اور آج کا ایٹم بم ان کا مرہون منت ہے۔یہ جو کہا جا رہا ہے کہ عبدالقدیر نے فیوژن میں کام کیا باقی سب کام دوسروں نے کئے ، یہ سب غلط ہے۔عبدالقدیر صاحب کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں تھی، کوئی شمار ہی نہیں تھا پرو پیگنڈا کے سپیشلسٹ ہیں وہ اور بہت پرو پیگنڈا کیا ہے انہوں نے۔اس کے متعلق اخبارات میں یہ خبریں شائع ہو چکی ہیں کہ کس طرح بعض صحافیوں کو انہوں نے خریدا اور اپنی جیب سے پیسے خرچ کر کے ان کو اپنی تائید میں لکھنے پر آمادہ کیا۔اب یہ ساری باتیں پاکستان کے اخبارات میں چھپی ہوئی موجود ہیں ان کی تفصیل میں میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ مجھے پسند نہیں کہ عبدالقدیر خان صاحب کے کئے کرائے پر پانی پھیرنے کی کوشش کروں۔ان بے چاروں نے جو کچھ کریڈٹ لے لیا ہے اللہ ان کو مبارک کرے مگر تاریخ بدلنے کا ان کو کوئی حق نہیں تھا۔جو تاریخ کہہ رہی ہے وہ یہ باتیں ہیں جو میں آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں۔