خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 402
خطبات طاہر جلد 17 402 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء انہی کے اعتماد کی وجہ سے ان کو یہ توفیق ملی ہے۔اب منیر احمد خان صاحب زندہ موجود ہیں ، آپس میں یہ لوگ جتنا بھی فخر بانٹنا چاہیں ایک دوسرے سے چھین چھین کے بے شک بانٹیں، ان سے اگر کوئی پوچھے کہ بتاؤ کہ اٹامک انرجی کمیشن کے آغاز میں سب سے اہم کردارکس نے ادا کیا تو وہ بلاشبہ کہیں گے کہ ڈاکٹر عبدالسلام نے۔انہوں نے ڈاکٹر عبدالسلام پر ان کی وفات کے بعد جو مضمون لکھا، جو ٹریسٹ میں پڑھا گیا اس میں بہت کھل کر ڈاکٹر عبد السلام کی عظمت کے گیت گائے ہیں اور ان سب باتوں کا اگر آج کسی غیر احمدی سائنسدان کو قطعی یقینی علم ہے تو وہ یہ منیر احمد خان صاحب ہیں۔مجھے یقین ہے کہ پرائیویٹ مجالس میں جب ان سے پوچھا جائے گا تو یہ ضرور بتائیں گے لیکن اس آغاز کی تاریخ کا انہوں نے کیوں ذکر نہیں کیا میرے نزدیک پاکستانی حکومت اور پاکستانی میڈیا اور پاکستانی اخبارات اس کے متحمل ہی نہیں ہو سکتے تھے اس لئے بعید نہیں کہ انہوں نے بیانات میں یہ سچی باتیں کہی ہوں لیکن ان کو بالکل کلیۂ نظر انداز کر دیا گیا ہو اور ملیا میٹ کر دیا گیا ہو۔تو اس وقت جو پاکستان کی نیوکلیئر افزائش کے تعلق میں ایک عالمی حیثیت قائم ہو گئی ہے اس میں اول کردار ایوب خان اور دوم کردار جو سائنسی کردار ہے یہ ڈاکٹر عبد السلام نے ادا کیا۔ڈاکٹر سلام صاحب نے یورینیم کی افزائش کے سلسلہ میں ڈیرہ غازی خان میں یورینیم کے ذخائر کی دریافت کے بعد اس کو کس طرح ایٹمی توانائی کے قابل بنایا جا سکتا ہے اس کے متعلق سب سے اہم مشورے دئے اور شیخ لطیف صاحب جو احمدی سائنسدان ہیں یہ وہ سائنسدان ہیں جن کو اس کام پر مامور رکھا ہے۔بڑی خاموشی کے ساتھ ، بغیر کسی انانیت کے جذبہ کے تحت کریڈٹ لینے کی کوشش کے، انتہائی خاموشی اور اخفا کے ساتھ یہ کام کرتے رہے ہیں اور اس کی تفصیل میں یہاں بیان نہیں کر سکتا لیکن میرے پاس وہ سارے کوائف موجود ہیں۔اگر میں بیان کروں تو دنیا حیران رہ جائے گی کہ احمدی سائنسدانوں نے کتنی خاموشی کے ساتھ وہ خدمات سرانجام دی ہیں جن کے بغیر پاکستان میں نیوکلیئر افزائش کا کوئی سلسلہ ہی نہیں چل سکتا تھا۔کسی غیر معروف جگہ میں بیٹھ کر یہ لیبارٹریاں بناتے رہے ہیں۔وہ آج کی جو جدید لیبارٹری بنی ہے وہ اسی لیبارٹری کے خدو خال پہ بنی ہے جو انہوں نے تجویز کی تھی اور بنا کے دکھائی تھی تو بلیو پرنٹ بھی ان کا ہی تیار کردہ تھا اور بلیو پرنٹ کو ڈھال کر عملی شکل دینے میں بھی انہوں نے ہی سب سے بڑا کردار ادا کیا اور بعد میں جب زیادہ وسعت کی ضرورت پڑی تو بعینہ انہی کی سکیم کو آگے بڑھا کر وسعت دی گئی ہے۔