خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 404
خطبات طاہر جلد 17 404 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء شیخ لطیف صاحب کے علاوہ مرزا منور احمد صاحب ٹورانٹو کا میں نے بتایا ہے اسی طرح ڈاکٹر محمد افضل صاحب 1964ء سے 1969ء تک سنٹر فار نیوکلیئر سٹڈیز میں لیکچرار رہے ہیں یعنی پروفیسر تھے اور اٹامک انرجی کے سائنس دانوں کو نیوکلیئر سائنس کی ٹیکنالوجی پڑھانے میں انہوں نے سب سے نمایاں کام سرانجام دیا ہے۔جو ٹیم بنی ہے، بہت سارے کثرت سے لوگ Involve ہوتے ہیں ایسے کاموں میں ، اس ٹیم کو بنانے میں بھی احمدی پروفیسر ز کا دخل ہے۔تو تعجب کی بات ہے کہ ان سب باتوں کو آج کا پاکستان کلینہ بھلا رہا ہے اور ایک نئی تاریخ کو جنم دینے کی کوشش کر رہا ہے جو سراسر جھوٹی ہے۔اس مختصر ذکر کے بعد چونکہ میں نے حوالے نہیں پڑھے جو مختلف مضامین کے میرے پاس موجود ہیں اس لئے میرے اندازے سے جلدی وقت ختم ہو گیا ہے ورنہ میرا خیال تھا کہ اگر یہ حوالے پڑھوں تو پھر پور ا وقت ہو جائے گا۔پھر ڈر کے مارے نہیں پڑھے کہ زیادہ ہی وقت نہ لگ جائے اب مختصر تبصرہ کر کے اس خطبہ کو ختم کر دیتا ہوں۔آج کا دور یعنی وہ دور جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شروع ہوتا ہے اس دور میں ایک بھی ایسی بات نہیں جو مسلمانوں کے مفادات سے تعلق رکھتی ہو اور اس کا آغاز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آپ کے غلاموں نے نہ کیا ہو۔مسلم لیگ کی بنیاد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ڈالی۔مسلم لیگ کا تذکرہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لازماً الہاما اس طرف توجہ پیدا ہوئی کہ ہندوستان کے جتنے مسلمان ہیں ان کو اکٹھا ہو کر ایک لیگ کی بنیاد ڈالنی چاہئے اور آج کی مسلم لیگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام مٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔یہ عجیب کردار ہے جس کو ہرگز اللہ قبول نہیں فرما تا اور اس کا بد اثر کچھ دیکھ رہے ہیں ، کچھ اور بھی دیکھیں گے۔پاکستان کی تاریخ میں جماعت احمدیہ نے جو کردار ادا کیا اس سلسلہ میں تمام مستند کتابیں جو پہلے زمانہ کی چھپی ہوئی ہیں، رئیس احمد جعفری کی کتاب ہو یا کوئی اور ان میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے کہ تمام ہندوستان کی مذہبی جماعتوں میں اگر کوئی جماعت تھی جس نے پاکستان کی تعمیر میں کام کیا ہے تو یہ جماعت احمد یہ تھی۔اور اب ان کے سکول کی لغو اور لچر کتابوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ مولویوں نے پاکستان کو تعمیر کیا اور جماعت احمدیہ اس کی مخالف رہی ہے۔تو ہر چیز میں انہوں نے واضح جھوٹ اور ناشکری سے کام لیا ہے اس کے نتیجے