خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 401 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 401

خطبات طاہر جلد 17 401 خطبہ جمعہ 12 جون 1998ء عبد السلام کے مشورہ کے مطابق وہ سائنسدان ملوث ہوئے ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد احمدی سائنسدانوں کی تھی اور اگر وہ احمدی سائنسدان اس پر کام نہ کرتے تو آج کسی ایٹم بم کا سوال ہی نہ پیدا ہوتا پاکستان کے لئے اور یہ الزام کہ وہ اپنی خبریں احمدیوں کو دیتے ہیں اس قدر جھوٹا اور لغو ہے کہ اب جبکہ یہ واقعہ ہو گیا تو امریکہ سے شیخ لطیف صاحب نے جو اس وقت چوٹی کا کردار ادا کرنے والے تھے انہوں نے پہلی بار مجھے لکھا ہے کہ یہ سارے جھوٹ بول رہے ہیں، بات کچھ اور ہی ہے۔ایوب خان کے زمانہ میں آغاز ہوا اور میں ان سائنس دانوں میں سے ہوں جنہوں نے اولین کلیدی کردار ادا کیا ہے یورینیم کی افزائش کے تعلق میں اور مدتوں اس پر کام کیا، مختلف ممالک کے دورے کئے ہیں اور افزائش کے سلسلہ میں، اگر یہ سارا کام جو مخفی طریق پہ ہوتا رہا ہے اگر یہ نہ کیا جاتا تو آج پاکستان ایٹم بم بنانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا تھا۔تو اول طور پر یا درکھیں کہ اس کا سہرانہ بھٹو کے سر ہے نہ ضیاء الحق کے سر ہے، نہ نواز شریف کے سر ہے۔یہ سارے بعد میں شہرت لوٹنے والے لوگ ہیں۔سہرا اگر کسی پاکستانی سیاستدان کے سر ہے تو وہ جنرل ایوب خان تھے۔بہت گہرے انسان جن کی نظر ملک وقوم کے مفادات پر تھی اور دیکھنے میں ایک سادہ سے جرنیل تھے۔مگر ان کی بہت باریک اور گہری نظر اسلامی مفادات اور ملکی مفادات پر پڑا کرتی تھی اور اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ یہ انا مک انرجی کمیشن قائم ہوا۔اس میں ایک بہت بڑی خوبی یہ تھی کہ خاموشی سے کام کرتے تھے اور اپنا دکھاوا منظور ہی نہیں تھا۔اس وجہ سے بھی اس زمانہ کی تاریخ کو اب بھلا دیا گیا ہے ورنہ اگر اس وقت وہ کھل کر یہ باتیں کرتے تو ان کو ذاتی شہرت تو مل سکتی تھی مگر سب دنیا کی نظریں پاکستان کے اٹامک پروگرام پر ہوتیں اور اس وقت دخل اندازی کر کے وہ اس کی بنیاد ہی قائم نہ رہنے دیتے۔پس اپنی انا کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہیں کی انہوں نے اور اعتماد کیا تو احمد یوں پر کیا اور ڈاکٹر عبدالسلام نے جن لوگوں کے نام پیش کئے ان سب کو قبول کیا۔وہی نام ہیں جن میں سب سے بڑا نام اس وقت منیر احمد صاحب کا ہے۔منیر احمد صاحب نے جو بڑے جرات والے با اخلاق انسان ہیں اٹامک انرجی کمیشن میں بہت بڑا کام سرانجام دیا ہے۔اس کو منظم کرنے میں بعد ازاں ان کا بہت بڑا ہاتھ ہے اور یہ تسلیم کرتے ہیں کھل کر کہ ڈاکٹر عبدالسلام صاحب کے لائے ہوئے تھے اور