خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 350

خطبات طاہر جلد 17 350 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء سن کر میں نے اپنے آپ سے کہا کہ میں ابوبکر سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا۔اس سے زیادہ اور ہو کیا سکتا ہے۔“ (سنن ابی داؤد، کتاب الزكاة، باب فى الرخصة في ذالك ، حديث نمبر : 1678) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا معاملہ اکثر سنا ہو گا۔ایک دفعہ جب راہ خدا میں مال دینے کا حکم ہو، اتو گھر کا کل اثاثہ لے آئے۔جب رسول کریم صلی پیہم نے دریافت کیا کہ گھر میں کیا چھوڑ آئے ہو تو فرمایا کہ خدا اور (اس کے ) رسول صلی ا یہ تم کو گھر چھوڑ آیا ہوں۔“ رپورٹ جلسہ سالانہ 1897ء صفحہ: 55) کتنا پیارا جواب ہے خدا اور رسول صلی ا یہ تم کو گھر میں چھوڑ آیا ہوں۔رسول صلی ای ایم کے سامنے حاضر تھے، سامنے آنحضرت صلی للہ یہی تم کھڑے تھے اور کہہ رہے تھے گھر میں اللہ اور آپ سی یہ تم کو چھوڑ آیا ہوں۔بہت ہی پر لطف جواب ہے، ایسا کہ روح وجد میں آجاتی ہے۔بخاری کتاب الزکوۃ میں یہ بھی درج ہے که اگرچه صحابه کرام سخت تنگ دست تھے تاہم ان کو تھوڑا بہت جو کچھ ملتا تھا اس کو صدقہ خیرات کر دیتے تھے۔حضرت ابی مسعود الانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب آیت صدقہ نازل ہوئی تو صحابہ کرام بازاروں میں جاتے اور حمالی کرتے۔محنت مزدوری میں جو کچھ ملتا اس کو صدقہ کر دیتے۔(صحیح البخاری، کتاب الزكاة، باب اتقوا النار ولو بشق تمرۃ۔۔۔۔،حدیث نمبر : 1416) یہ وہ سنت ہے جس کو ایک دفعہ میں نے جماعت میں دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی تھی اور غالباً یہیں آپ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر چہ آپ کا وقت ہمہ تن خدمت دین میں مصروف رہتا ہے مگر اس مبارک سنت کو زندہ کرنے کی خاطر اگر تھوڑا سا وقت کچھ پھول ہی لے کر بازار میں بیچ آیا کریں اس نیت سے کہ جو کمائی ہے وہ کلیہ اللہ کے حضور پیش کروں گا یا اور کچھ اپنے کاروبار کے علاوہ تھوڑا سا حصہ محض اس وجہ سے کاروبار میں لگا ئیں کہ جو کچھ آمد ہوگی وہ اللہ کے حضور پیش کریں گے۔اس تحریک کے نتیجہ میں مجھے بہت سی عورتوں نے یہ لکھا کہ ہم اب اس غرض سے سلائی کرتی ہیں۔اور جہاں تک میرا علم ہے انہوں نے مستقل اس کو عادت بنالیا ہے کہ سلائی کا کام