خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 349

خطبات طاہر جلد 17 349 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء حساب ہی کوئی نہیں، کوئی شمار ہی نہیں۔آنحضرت صلی اب تم بکثرت اس مضمون پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہیں کہ آخرت میں جو کچھ عطا ہو گا جیسا کہ قرآن نے بھی بارہا بیان فرمایا ہے اس کا تصور بھی انسان نہیں کر سکتا۔دنیا کی عطا کو اس کے مقابل پر کوئی بھی نسبت نہیں ہوگی۔اب میں ایک نسبتاً لمبی حدیث حضرت رسول اللہ صلی ایمن کی آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں جو حضرت عمر بن خطاب سے مروی ہے۔یہ حدیث اور اس سے ملتی جلتی بہت سی حدیثیں ہیں۔میں نے آج اس حدیث کو لے لیا ہے لیکن اس کے علاوہ بہت سی ملتی جلتی حدیثیں تھیں جو چھوڑ کر الگ کر دیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اسلم کا بیان کہ اللہ کس طرح اپنے بندے کو عطا کرتا ہے اتنا دردناک ہے کہ میرے لئے جذباتی لحاظ سے ممکن ہی نہیں تھا کہ میں اسے آپ کے سامنے پڑھ کر سنا سکوں۔جب اللہ کا ذکر ہو اور محمد رسول اللہ صلی ایتم کر رہے ہوں کیسے برداشت کر سکتا ہوں کہ ہچکیوں کے بغیر میں آپ کے سامنے وہ بیان کر سکوں۔پس میں نے ایک ایسے کام پر ہاتھ ہی نہیں ڈالا جو میرے لئے ناممکن تھا لیکن یہ حدیث میں سمجھتا ہوں میرے لئے پڑھنی نسبتا آسان تھی اس لئے یہ میں نے آپ کے لئے چن لی ہے۔حضرت زیڈ اپنے والد اسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اسلم نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: و آنحضرت میلیشیا کی تم نے ہمیں ایک جنگی ضرورت کے لئے خدا کی راہ میں خرچ کرنے کی تحریک فرمائی۔حضرت عمر یہ عرض کرتے ہیں کہ ان دنوں میرے پاس کافی مال ہوا کرتا تھا۔میں نے دل میں کہا اگر میں ابوبکر سے زیادہ ثواب کما سکتا ہوں تو آج موقع ہے۔میں آدھا مال لے کر حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضور صلی ا لی ہم نے مجھ سے دریافت فرمایا: عمر کتنا مال لائے ہو اور کس قدر بال بچوں کے لئے چھوڑ آئے ہو۔میں نے عرض کی حضور آدھا مال لایا ہوں اور آدھا چھوڑ آیا ہوں۔اب ابوبکر جو کچھ ان کے پاس تھا وہ سب لے کر آگئے۔حضور علیہ السلام نے ابوبکر سے دریافت فرمایا ابوبکر کتنا مال لائے ہو اور کس قدر گھر والوں کے لئے چھوڑ آئے ہو۔ابوبکر نے عرض کیا حضور جو کچھ میرے پاس تھا وہ سب لے آیا ہوں۔جو کچھ پاس تھا وہ سب لے آیا ہوں اور بال بچوں کے لئے اللہ اور اس کا رسول صلی ا ہی تم چھوڑ آیا ہوں۔حضرت عمرؓ کہنے لگے یہ