خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 351
خطبات طاہر جلد 17 351 خطبہ جمعہ 22 مئی 1998ء جہاں بچوں کے لئے کرتی ہیں کچھ تھوڑی سی سلائی وہ اللہ کی رضا کے حصول کی خاطر اس لئے کرتی ہیں کہ جو بھی آمد ہوگی وہ دین کی راہ میں پیش کر دیں گے۔رسول اللہ صلی شما یہ ستم کی ترغیب و تحریص۔صحابہ کرام اور بھی زیادہ صدقہ و خیرات کی طرف مائل ہو گئے۔سنن ابو داؤد میں ذکر ہے کہ: ایک بار آپ صلی ا یہ تم نے خطبہ عید میں صدقہ کی ترغیب دی۔عورتوں کا مجمع تھا حضرت بلال دامن پھیلائے ہوئے تھے اور عورتیں اپنے کان کی بالیاں اور ہاتھ کی انگوٹھیاں پھینکتی جاتی تھیں۔“ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة، باب الخطبة يوم العيد ، حدیث نمبر : 1143) اس موقع پر حضور کی آواز جذبات سے گلو گیر ہوگئی۔چنانچہ فرمایا : اب جو میں جذباتی ہوا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ میں احمدی عورتوں کو بکثرت جانتا ہوں جو مسلسل یہ سنت زندہ کرتی چلی جارہی ہیں۔اس لئے قرآن کریم کا پہلا خطاب کہ هانتُم هؤلاء کتنا سچا ہے جو آج جماعت احمدیہ کے سوا کسی پر اطلاق پاہی نہیں سکتا۔وہی سنت نبوی صلی ای ام اس زمانہ کی چودہ سوسال پہلے کی ، آج اگر کوئی جماعت زندہ کر رہی ہے تو وہ احمد یہ جماعت زندہ کر رہی ہے۔یہ احمدی خواتین ہی ہیں جو مسلسل اس قربانی میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ایسا نمونہ پیدا کر رہی ہیں کہ صحابہ کے زمانہ کی یاد اس طرح تازہ ہوتی ہے جیسے ایک تازہ پھول کو آپ سونگھ رہے ہیں وہ اپنا رنگ دکھا رہا ہو اور اپنی خوشبو دے رہا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ہر ایک پہلو سے خدا کی اطاعت کرو۔اور ہر ایک شخص جو اپنے تئیں بیعت شدوں میں داخل سمجھتا ہے۔“ اپنے تئیں بیعت شدوں میں داخل سمجھتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو غلط نہی ہوتی ہے کہ ہم بیعت کنندہ ہیں، ہم بیعت میں داخل ہیں۔فرمایا اپنی بیعت کو اس طرح پر کھو، آگے جو ذ کر چلتا ہے وہاں بیعت پر لکھنے کا مضمون ہے۔وو ” جو اپنے تئیں بیعت شدوں میں داخل سمجھتا ہے۔اس کے لئے اب وقت ہے کہ اپنے مال سے بھی اس سلسلہ کی خدمت کرے۔“