خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 337
خطبات طاہر جلد 17 337 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء پس وہ ساری دنیا کی جماعتیں جو قربانی کے اس عظیم دور میں داخل ہو چکی ہیں اور ان جماعتوں میں اللہ تعالیٰ نے جماعت جرمنی کو بھی ایک مقام عطا فرمایا ہے ان کے لئے اس تحریر میں یہ سبق ہے کہ جتنی بھی قربانی دیں اس قربانی کو اللہ تعالیٰ کی رافت کا حصہ سمجھیں۔محض اللہ کا احسان سمجھیں کہ خدا اُن کو یہ توفیق دے رہا ہے اور بھولے سے بھی دل میں یہ خیال نہ گزرے کہ شاید ہم کچھ کر رہے ہیں خدا کی خاطر، خدا کی خاطر ہو یا خدا کے لئے بنی نوع انسان کی خاطر ہو ، دونوں صورتوں میں خدمت اپنی ذات میں اعزاز ہے اور اسی کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نقد سودا بیان فرمارہے ہیں۔ہر خدمت اپنی ذات میں اپنی جزا ہے اور جزا پر انسان کسی پر احسان نہیں رکھا کرتا جس کو جزامل رہی ہو ساتھ ساتھ وہ کیسے کسی گردن پر احسان رکھ سکتا ہے۔”اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں مگر جولوگ دنیا کی املاک و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں ، وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں۔“ دنیا کی املاک و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں۔دنیا کمانے سے تو احتر از ممکن ہی نہیں ہے اگر اور کچھ نہیں تو خدا کی راہ میں یا بنی نوع انسان کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے ہی انسان دنیا کمائے گا اور جس کی نیت یہ ہو کہ مجھے اتنا ملے کہ میں زیادہ سے زیادہ اللہ اور اس کے دین کی اور اس کے بندوں کی خدمت کر سکوں وہ اس دنیا کی کمائی کو بالذات نہیں سمجھتے یعنی یہ کمائی ہے۔ہے تو ہے، نہیں تو نہ سہی اللہ کی مرضی۔اگر اللہ کی مرضی پر نگاہیں ہیں تو خدا تعالیٰ اگر چاہے تو ان کو سب کچھ چھین کر اس ابتلا میں بھی آزما سکتا ہے کہ جب ان سے سب کچھ چھین لیا جائے تو دیکھیں ان کے چہرہ پر یا ان کے دل پر ملال تو نہیں آجاتا۔جو اللہ کی خاطر جو کچھ ان کے پاس ہے فدا کرتے رہتے ہیں وہ زیادہ فدا تو نہیں کر سکیں گے مگر جو کچھ تھوڑا بہت ان کے پاس بچ جائے گا وہی پیش کرتے رہیں گے۔اس کے برعکس بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جب کشائش سے آزماتا ہے تو اس وقت وہ کچھ نہ کچھ خدا کی راہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور جب ان پر مالی تنگی کے دن آتے ہیں تو اجازتیں لیتے ہیں کہ اب ہمیں توفیق نہیں رہی حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو مضمون پیش فرمارہے ہیں اس کے مطابق دنیا بالذات نہیں ہوتی۔اصل میں اللہ کی رضا حاصل کرنا اور اس کی خاطر