خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 338
خطبات طاہر جلد 17 338 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء اس کا دیا ہوا خرچ کرنا ہے۔پس اگر اس نے کم کر دیا تو کم میں سے دو۔اگر زیادہ دیا ہے تو زیادہ میں سے دو۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا دین دنیا پر مقدم رہتا ہے۔فرمایا ایسے لوگ دین کو ایک خوابیدہ نظر سے دیکھتے ہیں۔یہ خوابیدہ نظریں بھی ہر انسان پہچان سکتا ہے۔کم سے کم اپنی خوابیدہ نظر کو پہچاننے کی انسان میں صلاحیت ضرور موجود ہے۔دینی امور جتنے بھی اس کے گردو پیش واقع ہورہے ہیں وہ ان کو ایک اتفاقاً حادثاتی طور پر ساتھ ساتھ چلنے والے امور سمجھتا ہے، براہ راست اس کا دل ان امور میں نہیں ہوتا۔احمدیت ترقی کر رہی ہے ، لوگ نیک بنتے چلے جارہے ہیں، سب میں قربانی کی روح بیدار ہو رہی ہے اسے یہ محسوس نہیں ہوتا کہ یہ سارے میرے لئے خدا تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ہر بات جو میں ایسی سنتا ہوں جو دین کی ترقی کی ہے وہ میرے دل میں بے انتہا لذت پیدا کرتی ہے۔سُبحان الله بسم اللہ کہتے ہیں کہ اچھا یہ ہورہا ہے مگر براہ راست دل پر وہ لذت کی کیفیت طاری نہیں ہوتی جیسی اپنی تجارت کے چمکنے کے نتیجے میں ان کے دل پر ایک لذت کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اگر کوئی ان کو خبر سنائے کہ جو روپیہ تم نے فلاں جگہ لگایا تھا وہ ایسا ہوا کہ تجارت میں کہ وہ بہت بڑھ چکا ہے۔دنیا میں ایسے حادثات ہوتے ہیں جن کے نتیجہ میں بعضوں کی معمولی تجارتیں بھی ایک دم چمک اٹھتی ہیں۔اگر وہ ایسا دیکھیں تو دیکھیں ان کا دل اس بات کو کبھی بھی خوابیدہ نظر سے نہیں دیکھے گا، بے انتہا خوشیوں سے بھر جائے گا، لذتیں دل میں سمائی ہی نہیں جائیں گی۔اتنا گہرا اثر پڑے گا اس خبر کا کہ اگر اس کو احمدیت کی کامیابیوں کی خبر کے ساتھ موازنہ کر کے دیکھیں تو وہ کچھ بھی باقی نہیں رہے گی۔پس یہ بہت لطیف باتیں ہیں جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چند لفظوں میں بیان کرتے ہیں۔اب جب میں نے سمجھا دیا تو پھر دوبارہ نہیں اس تحریر کو تو معلوم ہوگا کہ خوابیدہ نظر کیا معنی رکھتی ہے۔مگر جو لوگ دنیا کی املاک و جائیداد کو اپنا مقصود بالذات بنا لیتے ہیں وہ ایک خوابیدہ نظر سے دین کو دیکھتے ہیں۔مگر حقیقی مومن اور صادق مسلمان کا یہ کام نہیں ہے۔سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے۔جب تک زندگی باقی ہے ان سب چیزوں کو وقف کر دے) تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔“ الحکم جلد 4 نمبر 29 صفحہ: 3 ، مؤرخہ 16 اگست 1900ء)