خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 336 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 336

خطبات طاہر جلد 17 336 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء تو اس سے لاکھوں کروڑوں گنا بڑھ کر جو لذت آئندہ مقدر ہے اس کا تصور باندھا جائے۔وہ اگر اور کچھ نہیں تو ان لذتوں کی خاطر ہی اپنی دنیا کو بدلو مگر اگر اس دنیا میں جنت نصیب نہ ہوئی تو ان لذتوں کی خاطر جو کچھ بھی کرو گے وہ سب بے کار جائے گا۔یہ پیغام ہے جس کو آپ کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے۔عموماً بعض لوگ سختی کر کے بھی ، محنت کر کے بھی بظاہر اگلی دنیا کمانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔بعض ایسے مشقت کرنے والے ہیں جن کی کھڑے کھڑے ٹانگیں سوکھ جایا کرتی ہیں جو ہاتھ اونچا کرتے ہیں تو ہاتھ شل ہو جاتے ہیں مگر حاصل کچھ نہیں ہوتا کیونکہ مرنے کے بعد کی جو زندگی ہے وہ ان کو ملے گی جن کو ان چیزوں میں گہری لذت ملتی ہے جو ایک لذت کے خیال سے مصیبت اٹھاتے ہیں ان کو نہیں مل سکتی۔اس اقتباس کے بعد جو یہ رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ 131 ،132 سے اقتباس لیا گیا تھا اب اسی رپورٹ سے میں ایک اور اقتباس آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں: یعنی خدا کا پیارا بندہ اپنی جان خدا کی راہ میں دیتا ہے اور اس کے عوض میں خدا تعالیٰ کی مرضی خرید لیتا ہے۔وہی لوگ ہیں جو خدا تعالیٰ کی رحمت خاص کے مورد ہیں۔غرض وہ استقامت جس سے خدا ملتا ہے اس کی یہی روح ہے جو بیان کی گئی۔جس کو سمجھنا ہو سمجھ لے اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 421 رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ : 188) اب استقامت کے متعلق ، وہ کیا چیز ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔اب وقت چونکہ تھوڑا رہ رہا ہے اس لئے مجھے نسبتاً جلدی گزرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کے بندے جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں۔یہ تحریر ہے الحکم نمبر 29 جلد 4 صفحہ: 3، مؤرخہ 16 اگست 1900 ء کی۔اللہ تعالیٰ کے بندے جو دین کو دنیا پر مقدم کر لیتے ہیں ان کے ساتھ وہ رافت و محبت کرتا ہے۔چنانچہ خود فرماتا ہے وَاللهُ رَسُوفُ بِالْعِبَادِ ( کہ اللہ اپنے بندوں پر یا خالص بندوں پر بہت مہربان ہے۔یہ وہی لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے اللہ تعالیٰ کی ہی راہ میں وقف کر دیتے ہیں اور اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کرنا، اپنے مال کو اس کی راہ میں صرف کرنا اس کا فضل اور اپنی سعادت سمجھتے ہیں۔“