خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 335 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 335

خطبات طاہر جلد 17 335 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء ( یہی ) وہ نقد بہشت ہے جو روحانی انسان کو ملتا ہے اور وہ بہشت جو آئندہ ملے گا وہ در حقیقت اسی کی اطلال و آثار ہے۔“ اس دنیا میں جس نے بہشت دیکھ لی اس کا ظل ہے ایک جو اخروی زندگی میں ملے گا۔آثار ہیں اس کے یعنی اس کے گویا سائے ہیں جیسے نقش قدم انسان چھوڑتا ہے تو قدم تو نہیں ہوتا مگر گزرے ہوئے قدم کے لئے اس کا نقش قدم راہنمائی کر رہا ہوتا ہے۔تو اگلی دنیا میں جو بہشت ہوگا وہ یہ بہشت تو نہیں ہوگا جو یہاں حاصل ہے کیونکہ اس سے بہت زیادہ بلند ہے مگر جسے اسی دنیا میں یہ اللہ کی محبت کی لذت کا بہشت نصیب ہو جائے اور یہ نقد انقد سودا ہے جو اسے مل جائے وہ ہے جو کامل یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اب جب بھی میں مرا مجھے اسی بہشت کے سائے کے طور پر بہت اعلیٰ چیز یں نصیب ہونگی جن کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا۔اب دنیا میں جتنے بھی مذہب کی معرفت بیان کرنے والے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی شما یہ تم کے بعد گزرے ہیں ان میں سے کسی کی ایسی تحریر نکال کے دکھاؤ۔یہ بد بخت ملاں ایک ایسے عارف باللہ کے پیچھے پڑ کے کیوں اپنی آخرت خراب کرتے ہیں، اس کے متعلق بد کلامی کرتے ہیں جو ہمیں اللہ کی محبت کی راہیں کھول کھول کر دکھا رہا ہے۔فرمایا: جس کو دوسرے عالم میں قدرت خداوندی جسمانی طور پر متمثل کر کے دکھلائے گی۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ : 385/رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب صفحہ : 132،131) اظلال و آثار جو ہیں وہ جسمانی طور پر متمثل نہیں ہوا کرتے۔کسی چیز کا سایہ ہے تو سایہ ہی ہو گا اصل تو نہیں ہوسکتا۔فرمایا یہ وہ سائے نہیں۔خدا تعالیٰ کی قدرت کاملہ اُس دنیا میں اس دنیا کی جنت کو متمثل کر کے دکھائے گی وہ واقعہ نظر آنے والی محسوس ہونے والی ، سونگھنے والی خوشبوؤں سے معطر، مزوں سے بھری ہوئی جنت حقیقت کا روپ اوڑھ لے گی اور وہ حقیقت جو ہے اس کی تفصیل بیان نہیں کی جاسکتی کیونکہ قرآن کریم فرماتا ہے کہ کوئی آنکھ ایسی نہیں جس نے وہ جنت دیکھی ہو، کوئی کان ایسا نہیں جس نے اس جنت کا بیان سنا ہو۔پس حقیقت میں وہ جو کچھ بھی ہے یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر اس دنیا کی جو خدا کی محبت کی لذتیں ہیں وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی خاطر انسان تمام دنیا کو ایک طرف پھینک دیتا ہے اور ان کو قبول کرتا ہے ان لذتوں کی شدت کا یہ اثر ہے کہ ہر دوسری لذت بیچ ہو جاتی ہے