خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 334
خطبات طاہر جلد 17 334 خطبہ جمعہ 15 مئی 1998ء دل میں قرار پکڑ لیتی ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک ایک لفظ قابل توجہ ہے۔تمام لذت اس کی فرمانبرداری میں ٹھہر جاتی ہے۔اب کوئی دنیا کا چوٹی کا ادیب بھی ایسی تحریر نہیں لکھ سکتا کہ ہر ہر لفظ با معنی ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی فصاحت و بلاغت سچائی پر مبنی ہے ایک لفظ بھی بے حقیقت نہیں، کوئی لفظ نہیں جو سچائی سے نور یافتہ نہ ہو اور یہی سچائی ہے جو آپ کی تحریروں کو ہمیشہ کے لئے زندہ کر رہی ہے۔اور تمام اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذ ذ اور احظاظ کی کشش سے صادر ہونے لگتے ہیں۔“ جب دل میں خدا کی محبت کا لطف ٹھہر جاتا ہے تو اس لطف کو بڑھانے کی خاطر ، اس کو ہمیشہ اپنا را ہنما بنانے کی خاطر ویسے ہی لطف کے لئے وہ کوشش کرتے ہیں اور انسان جو لذت کے لئے کوشش کرتا ہے وہ مشقت نہیں ہوا کرتی۔ہماری جتنی عبادتیں، جتنی خدمتیں مشقت کا رنگ رکھتی ہیں وہ لذت سے محروم ہیں۔کوئی چیز جس میں لذت ساتھ ساتھ حاصل ہو رہی ہو اسے مشقت نہیں کہا جاتا۔دنیا کے ادنی دکاندار بھی دیکھیں کتنی محنت کر رہے ہیں ، اپنے تھوڑے سے پیسے کمانے کی خاطر لیکن چونکہ ان پیسوں میں مزہ آرہا ہے اس لئے دیکھنے والا سمجھتا ہے کہ بڑی مشقت ہے۔ان کی بلا سے ان کو ذرہ بھی اس میں مشقت محسوس نہیں ہوتی۔کوئی شخص جو صبح اٹھتا ہے ، دکان کھولتا ہے، کوئی بنیا دیکھیں ، سوچیں ذرا وہ رات کے بارہ بجے تک حساب فہمی کرتا رہتا ہے اگر اس کو آپ جا کے ہمدردی کریں، کہیں میاں بس کرو، تھک گئے ہو گے، دو پہر ہو گئی ہے اب آرام کرو تو کیسی کڑی نظروں سے تمہیں دیکھے گا کہ جاؤ جاؤ اپنی راہ لو مجھ کو میرے حال پہ رہنے دو مجھے مزہ آ رہا ہے اس چیز میں اور مزے کے بغیر وہ کام کر ہی نہیں سکتا۔تو فرمایا: ” اعمال صالحہ نہ مشقت کی راہ سے بلکہ تلذ ذاور احظاظ کی کشش سے صادر ہونے لگتے ہیں۔تمام اعمال صالحہ میں ان کو اللہ کی رضا کا مزہ دکھائی دے رہا ہوتا ہے، مزہ محسوس ہورہا ہوتا ہے اور وہ اس وجہ سے خود بخو دصادر ہونے لگتے ہیں۔( یہی ) وہ نقد بہشت ہے۔“ یہ نقد بہشت “ یہ اب قابل غور بات ہے۔سود انقد انقدی ہے۔یہ نہ سمجھو کہ اس دنیا میں تو نہیں ملی اور انگلی دنیا میں مل جائے گی۔اللہ ادھار نہیں رکھتا وہ بہشت جو خدا کی محبت کی اعلیٰ لذات کی بہشت ہے وہ تو نقد انقدی تمہیں اس دنیا میں ملتی ہے۔