خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 280 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 280

خطبات طاہر جلد 17 280 خطبہ جمعہ 24اپریل 1998ء غصہ میں آپے سے باہر ہورہے تھے ( اور ) جوش کے ساتھ بولے واہ صاحب واہ ! یہ کیا بات ہے۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے جوش میں کہہ رہے ہیں واہ صاحب واہ۔یہ کیا بات ہے۔) آپ کے پیر کو کوئی شخص برا بھلا کہے تو آپ فوراً مباہلہ کے ذریعہ اسے جہنم تک پہنچانے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں مگر ہمیں یہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص آپ کو ہمارے سامنے گالی دے تو ہم صبر کریں۔“ (سیرت طیبه از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ :24) کیا بات ہے۔کیسی عمدہ مثال ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے لئے ہرگز پسند نہیں فرماتے تھے مگر آپ کے غلاموں نے آپ کو دیکھا ہوا تھا اپنے آقا صلی و ایام کے بارے میں آپ کا کیا سلوک تھا۔پس وہ تو آپ کو اپنا آقا ہی سمجھتے تھے اور جانتے تھے اور ایمان رکھتے تھے اس لئے ہرگز پسند نہیں کرتے تھے کہ آپ کے خلاف کوئی کسی قسم کی بیہودہ سرائی کی جائے لیکن اس کے باوجود صبر کی تعلیم اپنی جگہ ہے۔یہ ایک ایسے شخص کی مثال ہے جس کو حلم کا خلق نصیب نہیں تھا اتنا۔میں جو یہ باتیں بیان کر رہا ہوں تو جماعت کو یہ سمجھانے کے لئے کہ ہمارا واسطہ دنیا میں ہر قسم کے گندے لوگوں سے پڑتا ہے۔پاکستان سے آئے دن ایسی خبریں ملتی رہتی ہیں کہ کسی جگہ کسی نے بہت بدکلامی سے کام لیا، اتنی بد کلامی کی کہ دل برداشت نہیں کر سکتا۔اگر کوئی یہ مثالیں دے دے اور کہے کہ ہم نے بھی تو اس موقع پر اسی طرح کیا تھا کہ آپے سے باہر ہو گئے تو یہ درست نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کبھی بھی رسول اللہ لیا ایم کے دشمنوں پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔کبھی بد کلامی کرنے والوں کے خلاف جو جوابی کارروائی کی ہے وہ اسی حد تک رکھی ہے جس حد تک اس کی بد کلامی کا تقاضا تھا اور حتی المقدور بد کلامی سے پر ہیز کیا ہے مگر کہیں کہیں جوش میں ایسے کلے نکل گئے ہیں جسے آج تک ملاں لوگ اچھالے پھرتے ہیں یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو وہ چند کلمات اس وقت کہے جبکہ ایک شخص نے بے انتہا بد تمیزی، بے حیائی اور گندا اچھالنے سے کام لیا ہے کہ آپ کو اگر اس کی مثالیں دی جائیں تو غم سے آپ کا دل پھٹ جائے گا۔یہ ساری باتیں آپ سنتے تھے مگر ایک واقعہ آپ نہیں بتا سکتے کہ آپ نے ان کے جواب میں کسی کو پتھر مارا ہو، کسی کے اوپر کوئی حملہ کر دیا ہو۔اور یہ بابا فلاسفر جو تھے یہ عبداللہ صاحب، آپ ان کے مرید نہیں ہیں، مسیح موعود علیہ السلام