خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 281
خطبات طاہر جلد 17 281 خطبہ جمعہ 24 اپریل 1998ء کے مرید ہیں۔ان کا ایک رنگ تھا اپنی غیرت کے اظہار کا وہ کر دکھایا انہوں نے مگر جماعت کو سبق مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عمل سے لینا چاہئے۔عمل یہ ہے کہ ایسے لوگوں کی مجلس میں کبھی بھی نہیں آپ بیٹھے کبھی ایسے لوگوں کی صحبت کو اختیار نہیں فرمایا اور یہی قرآنی تعلیم ہے۔پس قرآنی تعلیم جو آپ کے سامنے رکھی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ جب ایسے لوگ بے ہودہ سرائی کریں تو پتھر اٹھاؤ اور ان کے سر پھاڑ دو۔فرمایا کہ اٹھ جایا کرو پھر دوبارہ ان کے پاس جانے کا تصور بھی نہ کرو۔پس آپ کو یہ تعلیم ہے کہ ایسے لوگوں سے قطع تعلقی مستقل رکھیں اور کبھی سوچیں بھی نہ کہ آپ ان بد بختوں کی صحبت میں بیٹھ سکتے ہیں لیکن عملاً جبر سے کام نہیں لینا عملاً کوئی ایسی حرکت سرزدنہ ہو جو قرآن کریم کی اس آیت، اسوہ حضرت رسول اللہ سلیم اور اسوہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مخالف ہو۔اب مجھے جو فکر رہتی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان میں بہت ہی بدگوئی کی جاتی ہے۔آئے دن مجھے خطوں میں بعض اشارے ملتے ہیں کہ اس قسم کی بکواس کر رہے ہیں لوگ۔اب مصیبت یہ ہے کہ ان کے پاس تو جاتا کوئی نہیں لیکن وہ گھروں پر ، دیواروں پر گندگی لکھتے رہتے ہیں اور یہ مولویوں کا شیوہ ہے یہ ساری دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔آپ اندازہ کریں کہ کہاں تک یہ لوگ پہنچے ہیں۔پرتگال میں جگہ جگہ ان خبیث مولویوں کے ٹائلٹس کے اوپر اشتہار لگے ہوئے ہیں کہ نعوذ باللہ من ذلك حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا انجام یہاں ہوا تھا۔اب اس کے تفصیلی جواب کا تو یہ موقع نہیں مگر میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا جن بدبختوں سے رابطہ ہے یہ تو دوسرے تمام بدبختوں اور دہریوں سے آگے بڑھ چکے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک شخص لیکھرام تھا جس کا آگے ذکر آئے گا اس نے اور اس کے ساتھی آریوں نے رسول اللہ صلی ا یتیم کے خلاف بہت بکواس کی ہے۔مگر اس حد تک نہیں گئے جس حد تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دشمن گئے اور ابھی تک اس پر قائم ہیں اور یہی سلسلہ ان کا جاری ہے۔پاکستان میں احمدی گھروں کی دیوار میں گندگی سے کالی کی گئی ہیں اور ان کے صبر کی آزمائش ہے تو ان لوگوں کو میں سمجھا رہا ہوں کہ آپ لوگ اگر چہ درست ہے کہ وہاں تک نہیں پہنچتے وہ آپ تک پہنچتے ہیں، کوئی چارہ نہیں، کوئی مفر نہیں ہے مگر اس قسم کی بے حیائیاں اور زیادتیاں خواہ وہ لوگ آپ تک آ کے کریں تب بھی آپ کو برداشت کرنی ہوں گی اور یہ برداشت جو ہے یہ مذہبی غیرت کے خلاف نہیں ہے۔یہ برداشت