خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد 17 279 خطبہ جمعہ 24 اپریل 1998ء الصلوۃ والسلام کی سیرت ہے، سیرت طیبہ کے نام سے، اس میں ایک اسی قسم کا واقعہ لکھتے ہیں جو بڑا دلچسپ ہے۔فرماتے ہیں: ” قادیان میں ایک صاحب محمد عبد اللہ ہوتے تھے جنہیں لوگ پروفیسر کہہ کر پکارتے تھے وہ زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن بہت مخلص تھے اور چھوٹی عمر کے بچوں کو مختلف قسم کے نظاروں کی تصویریں دکھا کر پیٹ پالا کرتے تھے۔(سلائیڈز ہوتی ہیں ناں جس طرح دکھانے والی وہ جگہ جگہ اڈہ بنایا یہی ان کا گزارہ تھا) مگر جوش اور غصہ میں بعض اوقات توازن کھو بیٹھتے تھے۔( ان کی طبیعت ایسی تھی اتنا جوش آتا تھا، اتنا غصہ آتا تھا اپنی مرضی کے خلاف بات کا کہ پھر برداشت نا ممکن ہو جاتی تھی ) ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجلس میں کسی نے بیان کیا کہ فلاں مخالف نے حضور کے متعلق فلاں جگہ بڑی سخت زبانی سے کام لیا ہے۔“ اس کی تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔نہ حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے اس کو یہاں بیان فرمایا ہے مگر دوسری جگہ جو تفاصیل ملتی ہیں ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بہت ہی گندی باتیں کی گئی ہیں اور وہاں بھی جو صحابہ تھے وہ برداشت نہیں کر سکے اور جواب میں بعض دفعہ گندی بات استعمال کی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو نا پسند فرمایا کہ ہر گز تمہارے لئے زیبا نہیں تھا کہ تم اس کلام کو اپنے منہ سے نکالتے تو یہی صاحب ہیں عبداللہ صاحب ،جن کا ذکر میں اب کر رہا ہوں کہ ایک دفعہ کسی نے بیان کیا کہ بڑی سخت زبانی کی ہے اور گالیاں دی ہیں۔پروفیسر صاحب کو اتنا غصہ آیا کہ کھڑے ہو کر کہا اگر میں ہوتا تو اس کا سر پھوڑ دیتا۔تم جو باتیں بیان کر رہے ہو تمہیں شرم نہیں آئی تم نے کچھ نہیں کیا اس کا۔میں ہوتا تو اس کا سر پھوڑ دیتا۔( اس پر ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بے ساختہ فرمایا نہیں نہیں ایسا نہیں چاہئے ہماری تعلیم صبر اور نرمی کی ہے۔“ تو دیکھئے کتنی گندی باتیں جن کو قلم برداشت نہیں کر سکتا کہ لکھے اور زبان پسند نہیں کرتی کہ ان کا کوئی حرف نوک زبان پر آنے دے۔فرمایا ہماری تعلیم صبر اور نرمی کی ہے ایسا نہیں کرنا چاہئے۔اب پروفیسر صاحب مخلص بھی تھے اور آپے سے باہر ہونے کے بھی عادی تھے اس موقع پر ان کو بڑا جوش آیا۔