خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 238 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 238

خطبات طاہر جلد 17 238 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء یا بخش دینا، اس پر کوئی سوال نہیں اُٹھ سکتا لیکن اللہ تعالیٰ خود کوئی کام حکمت سے خالی نہیں فرماتا اس لئے وہ اپنی ملکیت کا استعمال بھی اس رنگ میں فرماتا ہے کہ انسانی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو عین برمحل استعمال ہوگا اور اس میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے حالانکہ مالک ہونے کے لحاظ سے وہ جو چاہے کرے کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو یا تو ایسا کیوں کرتا ہے۔پہلی بات یہ ہے جو قابل توجہ ہے۔دوسری بات ہے وَإِن تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُم بِهِ الله سب کچھ اس کا ہے اور ہر چیز اس کے ہونے کی وجہ سے ہر چیز پر اس کی نظر بھی ہے اور چونکہ ہر چیز پر اس کی نظر ہے اس لئے تمہارے لئے بیکار ہے خواہ کسی بات کو ظاہر کر دیا چھپاؤ۔خدا تعالیٰ کے ہاں کوئی بات جو چھپی ہوئی ہے وہ چھپی ہوئی نہیں رہے گی وہ بھی اس پر ظاہر ہوگی اور جو تم ظاہر کرتے ہو، ہوسکتا ہے تم غلط ظاہر کر رہے ہو۔وَ اِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُم جب اپنے نفس کی باتیں ظاہر کرتے ہو تو ضروری تو نہیں کہ سچی باتیں کرتے ہو۔تو اس پہلو سے دونوں امور پر اللہ تعالیٰ کی نظر ہے اس لئے ظاہر کرنا، جھوٹا ہو یا بناوٹ کا ہو، چھپانے کی کوشش کرنا جو اپنے جرائم یا نیتوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہو یہ سب بیکار ہے۔يُحَاسِبُكُم بِهِ الله جو حقیقت حال ہے جس پر خدا کی نظر ہے اس پہلو سے وہ تمہارا حساب کرے گا اور محاسبہ کرے گا کیونکہ اس سے پہلے ملکیت ہونا ثابت ہے تو ملکیت کے ساتھ جزا سزا کا مضمون بھی داخل ہوا کرتا ہے۔چنانچہ فرما یا تم یاد رکھنا تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، جو کچھ بھی کرو گے اس کا محاسبہ ہوتا ہے۔فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ۔اس محاسبہ میں جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا اسے اس کی سزا دے گا۔وَ اللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ یہ جو وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ہے یہ آیت کے آغاز کی طرف دوبارہ اشارہ فرما رہا ہے۔جب سب کچھ اس کا ہے تو ہر چیز پر قادر بھی ہے لیکن فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ میں ایک اور بھی مضمون بیان ہو گیا ہے، جب محاسبہ کرے گا تو پھر لاز ما بخشش یا پکڑ کا تعلق محاسبہ سے ہوگا۔محاسبہ کے دوران اگر اللہ تعالیٰ یہ معلوم فرمائے گا کہ ایک شخص نے اس محاسبہ سے پہلے خود اپنا محاسبہ کر لیا تھا تو اس محاسبہ کا بنیادی اثر یہ قائم ہوگا کہ اس محاسبہ کے درمیان اگر وہ سچا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے ان لوگوں میں داخل فرمالے گا جن کے ساتھ وہ بخشش کا سلوک فرمائے گا اور اگر اپنے محاسبہ میں لوگ جھوٹے ہیں جیسا کہ بسا اوقات لوگ