خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 239
خطبات طاہر جلد 17 239 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء اپنے محاسبہ میں جھوٹ سے کام لیتے ہیں حالانکہ کوئی اور نہیں دیکھ رہا ہوتا مگر جب اپنا محاسبہ کرتے ہیں تو بڑی رعایت کرتے ہیں اپنے نفس کی اور کچھ ظاہر کرتے ہیں کچھ چھپاتے ہیں، جس پر اللہ کی نظر ہے۔تو محاسبہ سے تعلق میں یہ بات قابل غور ہے کہ فیغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ کا تعلق محاسبہ کی حالت سے ہے۔اگر خدا صحیح محاسبہ فرماتا ہے تو محاسبہ کرنے والوں میں سے کچھ ایسے لوگوں کو پائے گا جو اپنے نفس کا خود حساب کر رہے ہیں۔اگر وہ خود حساب کر رہے ہیں اللہ کی خاطر تو پھر اللہ تعالیٰ اُن سے نرمی کا سلوک فرمائے گا۔اگر خود حساب نہیں کر رہے یا کر رہے ہیں تو جھوٹا حساب کر رہے ہیں تو ان پر اللہ تعالیٰ سختی فرمائے گا اور یہ مضمون جو ہے: حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا " --- (جامع الترمذي، أبواب صفة القيامة۔۔۔باب حديث الكيس من دان۔۔۔، حدیث نمبر : 2459) والا مضمون ہے۔صوفیاء یہ بیان کرتے ہیں حَاسِبُوا أَنْفُسَكُمْ قَبْلَ أَنْ تُحَاسَبُوا، اپنا حساب کر لو پیشتر اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔یہ اس آیت کا منطوق ہے یعنی بنیادی مقاصد جو اس آیت کے بغور تلاوت سے ہمیں حاصل ہوتے ہیں وہ یہ مقاصد ہیں۔اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن کا اسی مضمون سے گہرا تعلق ہے۔فرماتے ہیں: اگر تیرا دل شر سے خالی ہے تو تیری زبان بھی شر سے خالی ہوگی۔“ یہ سچا محاسبہ ہے۔اگر دل اور زبان میں تضاد نہ ہو تو دل شر سے خالی ہے تو زبان بھی شہر سے خالی ہونی چاہئے۔کتنا آسان محاسبہ کا طریق بیان فرما دیا آپ نے۔اپنی زبان پر قابو رکھو، اس پر نگاہ رکھوا گر زبان ہر وقت اول فول بکتی رہتی ہے، جو دل میں آئے اسے نکال دیتی ہے تو پھر تمہارا یہ کہنا کہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کر رہا ہوں بالکل جھوٹ ہے۔اگر نفس کا محاسبہ کرو گے تو زبان پر ہمیشہ پاک کلمات آئیں گے، مغلوب الغضب نہیں ہو گے۔ہر وقت زبان کو آزاد چھوڑ دو اور یہ کہو کہ میں محاسبہ کر رہا ہوں یہ نہیں ہوسکتا۔تو اللہ تعالیٰ جس سے نرمی کا سلوک فرمائے گا اس کی زبان کو دیکھے گا اور زبان گواہ بن جائے گی اسی لئے آنحضرت ملالہ کی تم نے انسان کے نفس پر گواہ کے طور پر زبان باہر نکال کے دکھائی کہ یہ ٹکڑا زبان کا جو ہے یہ فیصلہ کرے گا حالانکہ زبان سے انسان جھوٹ بھی بولتا ہے لیکن جب جھوٹ