خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 237 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 237

خطبات طاہر جلد 17 237 خطبہ جمعہ 10 اپریل 1998ء دلوں کے مخفی خیالات، عادات اور جذبات کا محاسبہ کرو حضرت مسیح موعود کے ارشادات کی روشنی میں نصائح (خطبہ جمعہ فرمودہ 10 اپریل 1998ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیت کریمہ کی تلاوت کی: لِلهِ مَا فِي السّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَ اِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبُكُمْ بِهِ اللهُ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِير پھر فرمایا: (البقرة: 285) یہ ان آیات میں سے ایک ہے جس کی اکثر تلاوت کی جاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بڑی تعداد میں احمدیوں کو یہ آیات یاد ہوں گی۔اس کے مضمون پر میں بعض دوسرے پہلوؤں سے روشنی پہلے بھی ڈال چکا ہوں لیکن آج خصوصیت سے ایک ایسے مضمون پر روشنی ڈالوں گا جس کے تعلق میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات پیش کئے جائیں گے۔اس میں تین چار ایسی بنیادی چیزیں ہیں جن کو مدنظر رکھنا ضروری ہے جن کی طرف عموماً لوگوں کا دھیان نہیں جاتا۔لِلَّهِ مَا فِي السَّبُوْتِ وَ مَا فِي الْأَرْضِ مِیں اللہ تعالیٰ کی گلی ملکیت کا ذکر ہے۔مَنْ ہی نہیں فرمایا بلکہ ما فرمایا ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے اور اس میں باشعور چیز میں بھی داخل ہو جاتی ہیں، جو کچھ بھی موجود ہے زمین و آسمان میں وہ سب اللہ کی ملکیت ہے۔ملکیت کے پہلو سے اس کا سزا دینا