خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 236 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 236

خطبات طاہر جلد 17 236 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء تو پھر اندر سے وہ Dry-Rot کی کھائی ہوئی چیزیں دکھائی دینے لگ گئیں۔اوپر کی صفائی میں ان تمام شرائط کو پورا کر دیا گیا تھا جو عمارت کے نقائص تھے ان کو دور کر دیا گیا جو بار یک صفائی کے تقاضے تھے ان کو پورا کر دیا گیا۔جب مین سب کچھ مکمل ہو گیا تو میں نے جا کے دیکھا اوّل تو تھوڑا سا میرا رستہ ایک جگہ سے روک رہے تھے دوسری چیزیں دکھا رہے تھے لیکن آخر دکھانا تھا۔میں نے جو اوپر جا کر دیکھا میں نے کہا ہیں! انا للہ یہ کیا چیز ہے؟ کہ یہ کچھ خرابی تختہ ہل رہا ہے اور یہ ہے، وہ ہے حالانکہ وہ خرابی ایسی تھی جو ساری عمارت کو کھانے والی تھی اور جب تحقیق ہوئی تو پتا چلا اندر کی صفائی نہیں ہوئی جو اندر گہری صفائی ہوتی ہے وہ زہر یلے بیج ابھی پڑے ہوئے تھے۔جب کمپنی والوں کو بلا کر دکھایا تو انہوں نے کہا یہ Dry-Rot تو لوہے کو بھی کھا جائے گی ، کچھ باقی نہیں چھوڑے گی اس عمارت کا۔جب تک تلاش کر کر کے اس کے ہر ذرہ کی بیخ کنی نہ کی جائے جس کے لئے اب دُنیا میں ایسی دوائیں ایجاد ہو چکی ہیں جن سے Dry-Rot کو مارا جاسکتا ہے، پہلے نہیں تھیں۔چنانچہ بہت بھاری قیمت پر ان دواؤں کا استعمال کیا گیا۔ہمارے خدام نے بڑی وہاں اخلاص سے خدمت کی ہے اللہ انہیں جزا دے۔بڑی دور دور سے گئے ہیں وہاں۔لندن سے بھی وہاں گئے ، ہارٹلے پول وغیرہ سے بھی گئے۔بریڈ فورڈ سے بھی گئے اور ان سب نے مل کر ان تھوڑے خدام کی مدد کی جو گلاسگو کے رہنے والے تھے اور وہ چیز جس کے لئے وہ 1/5 لاکھ پاؤنڈ طلب کر رہے تھے وہ 20 ہزار پاؤنڈ میں سیاری پوری کر دی۔یہ اخلاص والے بندے ہیں ، اپنی تکلیف نہیں دیکھتے، اپنا دکھ نہیں دیکھتے، حکم کی تعمیل کرتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ جس نے حکم دیا ہے ہمارا خیر خواہ ہے اور پھر اس کے ایسے پاک نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔اب چونکہ وقت ہو گیا ہے باقی نشان ڈال لیں جہاں تک ہے۔یہ پہلا بنڈل ہی ختم نہیں ہونا کیونکہ اس میں اور اور باتیں آتی جاتی ہیں۔چلتا جائے جتنادیر مرضی۔