خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 222
خطبات طاہر جلد 17 222 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان تمام امور کی طرف توجہ فرماتے ہوئے ایسی پاک نصیحت فرماتے ہیں، ایسے سادہ دل میں اتر جانے والے لفظوں میں نصیحت فرماتے ہیں کہ اس سے بہتر نصیحت کی ہی نہیں جاسکتی سوچی بھی نہیں جاسکتی۔آپ کا ہر لفظ زندہ ہے سچائی سے بھرا ہوا ہے لیکن بد بخت جو ارادہ کئے بیٹھے ہیں کہ ہم نے سچائی کا انکار کرنا ہی ہے اور اسے نامراد کر کے دکھانا ہے ان کے کانوں پر ان باتوں کا کوئی بھی اثر نہیں پڑے گا۔ایسے لوگ ہو سکتا ہے اس وقت یہاں یا باہر بیٹھے سن رہے ہوں ان کو میں بتا رہا ہوں کہ جو مرضی کر لو تم لازماً نامراد ہو گے۔تم کسی قیمت پہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: سچائی اختیار کرو۔سچائی اختیار کرو کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔کیا انسان اس کو بھی دھوکہ دے سکتا ہے۔( جو ہر وقت دلوں کو دیکھ رہا ہو ) کیا اس کے آگے بھی مکاریاں پیش جاتی ہیں۔“ ہو ہی نہیں سکتا، اللہ کے سامنے مکاریاں کرو۔ادھر ادھر دنیا کو دھوکا دینے کی کوشش کرو اور سمجھو کہ خدا والوں کو بھی دھوکا دے دو گے۔یہ محض تمہارے دل کا دھوکا ہے جو تمہیں برباد کر نے والا ہے۔دل کا مرض ہے جو بڑھتا جائے گا اور آگ سے اور آگ پیدا ہوتی چلی جائے گی۔اللہ اپنے بندوں کو کبھی خالی نہیں چھوڑتا۔فرمایا: کیا اس کے آگے بھی مکاریاں پیش جاتی ہیں۔نہایت بد بخت آدمی اپنے فاسقانہ افعال اس حد تک پہنچاتا ہے کہ گویا خدا نہیں (ہے)۔“ اکثر خدا کے منکر اسی طرح خدا کے منکر بنتے ہیں کہ پہلے ان بد بختوں کے اندر فاسدانہ خیالات پیدا ہوتے ہیں اور وہ فاسدانہ خیال چونکہ ایک دوسرے رخ پر جاری ہوتے ہیں ، اللہ کی طرف نہیں ہوتے۔خدا کی طرف فسادیوں کی پیٹھ ہوتی ہے اس لئے لازماً انہوں نے اس طرف پہنچنا ہے جہاں کا رخ اختیار کئے ہوئے ہیں اور وہ دہریت ہے ان لوگوں نے لازماًد ہر یہ بنا ہوتا ہے۔فرماتے ہیں: ” فاسقانہ افعال اس حد تک پہنچاتا ہے کہ گویا خدا نہیں ( ہے ) تب وہ بہت جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔“ یہ ہم نے ہمیشہ سے ہوتا ہوا دیکھا ہے اب بھی دیکھیں گے سب، ساری دنیا دیکھے گی، ساری جماعت دیکھے گی کہ ان بد بختوں کا اس کے سوا اور کوئی انجام نہیں ہے۔