خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 223
خطبات طاہر جلد 17 223 خطبہ جمعہ 3 اپریل 1998ء تب وہ بہت جلد ہلاک کیا جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں ہوتی۔عزیز و! اس دنیا کی مجرد منطق ایک شیطان ہے۔“ یعنی اپنی طرف سے بڑی بڑی دلیلیں دینا اور سمجھنا کہ بہت ہم عالم و فاضل اور عاقل بنے ہوئے ہیں۔فرماتے ہیں یہ تو ایک شیطان ہے: اور اس دنیا کا خالی فلسفہ ایک ابلیس ہے۔جو ایمانی نور کو نہایت درجہ گھٹا دیتا ہے اور بیباکیاں پیدا کرتا ہے اور قریب قریب دہریت کے پہنچاتا ہے۔سو تم اس سے اپنے نہیں بچاؤ اور ایسا دل پیدا کرو جو غریب اور مسکین ہو۔“ یہ ہے سچائی کا راز جس کا دل غریب اور مسکین نہیں ہے وہ کبھی بھی سچائی کونہیں پا سکتا۔دل کی غربت ور مسکینی ہی ہے جس پہ اللہ کے فضل کی نظر پڑتی ہے اور اس مسکین دل انسان کو ہر ہلاکت سے بچالیتا ہے کیونکہ مسکینی میں یہ پیغام ہے کہ اے میرے رب میں کچھ بھی نہیں ہوں، میرے اندر کوئی ذاتی کمال نہیں، کوئی ذاتی صفات نہیں جو کچھ عطا فرمایا ہے تو نے عطا فرمایا ہے پس تو مجھ پر رحم فرما اور میری اور حفاظت فرما اور مجھے شیطان لعین سے نجات بخش۔یہ دعا اللہ کے حضور مقبول ہوتی ہے۔ایسا دل پیدا کرو جو غریب اور مسکین ہو اور بغیر چون چرا کے حکموں کو ماننے والے ہو جاؤ۔ب مسکین اور غریب نے کیا مین میکھ نکالنی ہے بیچارے نے ، دنیا میں یہی نظر آتا ہے جب کوئی حکم جاری کیا جاتا ہے تو مسکین غریب بیچارے چل پڑتے ہیں اس کی پیروی کے لئے اور فاسق وفاجر اور ابا والے کہتے ہیں تم ہمیں کس طرف بلا رہے ہو ہم ہر گز ادھر نہیں جائیں گے۔چنانچہ مسکین اور غریب دل کی یہ تعریف ہے جیسے ہمارے سادہ، پنجاب میں دیہاتی لوگ ہوا کرتے ہیں بوڑھے، ساده دل، پاک بدن، پاک صاف، جب بھی کوئی حکم ہوتا ہے وہ آگے چل پڑتے ہیں کبھی بھی ان کے دل میں خیال نہیں آیا کہ کیوں ہوا ہے، کیسے ہوا ہے، کیا ہوا ہے۔فرمایا: د مسکین ہو اور بغیر چون چرا کے حکموں کو ماننے والے ہو جاؤ جیسا کہ بچہ اپنی والدہ کی باتوں کو مانتا ہے۔“ بچہ والدہ کی باتوں کو کیوں مانتا ہے کبھی غور کر کے دیکھیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس کلام کا