خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 221
خطبات طاہر جلد 17 221 خطبہ جمعہ 3اپریل 1998ء پھر ایک دوسری آیت میں سورۃ ص میں اسی مضمون کو آگے بڑھایا گیا ہے یا دوسرے پہلو سے بیان فرمایا گیا ہے۔وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلا ہم نے ہر گز آسمان اور زمین کو اور جو ان دونوں کے درمیان میں ہے بے مقصد اور باطل پیدا نہیں کیا۔ذلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وہ لوگ جو خدا کے منکر ہیں یہ ان کو وہم ہے ، گمان ہے ان کا کہ یہ باطل پیدا کیا گیا ہے۔فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ۔پس ہلاکت ہو ان لوگوں کے لئے جنہوں نے کفر کیا آگ کے عذاب کی ہلاکت۔اب صاف ظاہر ہے کہ اگر باطل نہیں پیدا کیا تو لازماًیہ آگ میں پڑنے والے ہیں۔اس کے سوا اُن کا کوئی مقصد ہی نہیں کیونکہ جو خدا پر الزام لگاتے ہیں کہ باطل پیدا کیا ہے تو باطل کو تو اگر کوئی بنانے والا ہے تو آگ میں جھونکے گا، باطل سے تو کوئی مقصد نہیں حاصل کیا جاسکتا۔تو اپنے دعوی ہی سے جہنمی ثابت ہو جاتے ہیں۔خالق کا انکار، اس پر یہ الزام کہ سب کچھ باطل، بے ہودہ یونہی بنادیا یا یہ خیال کہ خدا نے پیدا ہی نہیں کیا تب بھی باطل ہے۔دونوں صورتوں میں یہ اپنے لئے آگ کو واجب کر لیتے ہیں۔ام نَجْعَلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصّلِحَتِ كَالْمُفْسِدِينَ فِی الْأَرْضِ کیا ہم ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور نیک عمل بجالائے ان سے زمین میں فساد کرنے والوں جیسا سلوک کریں گے؟۔یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ اللہ اپنے ان بندوں سے جو زمین میں امن پھیلانا چاہتے ہوں، بنی نوع انسان کے دل باندھنا چاہتے ہوں، خدا اور بندہ کے درمیان ایک موڈت کا رشتہ پیدا کرنا چاہتے ہوں ،ان سے وہی سلوک کرے جو فسادیوں سے کیا جائے گا۔آم نَجْعَلُ الْمُتَّقِينَ كَالْفُجَارِ - (ص: 29,28 ) اتنی بڑی بات ہے جو ناممکن ہے ، ہو ہی نہیں سکتی کہ اللہ تعالیٰ فجار، فاسق و فاجر، بدی پھیلانے والے، جھوٹ بولنے والے، ساری دُنیا میں دہریت کا پرچار کرنے والے ان لوگوں سے وہی سلوک کرے جو اپنے متقی بندوں سے کر رہا ہو یا متقیوں سے وہ سلوک کرے جوان فجار سے کر رہا ہو۔اس لئے لازماً انہوں نے برباد ہونا ہے اس میں ایک ادنی ذرہ بھی شک نہیں۔ساری کائنات گواہ ہے کہ ان کے رستے بربادیوں کے رستے ہیں یہ اس سے ٹل ہی نہیں سکتے۔جتنا مرضی چاہیں جماعت کو دھوکا دینے کی کوشش کریں لیکن اس آخری حقیقت سے وہ منہ نہیں موڑ سکتے کہ دُنیا میں بھی جہنمی رہیں گے اور آخرت میں بھی ایک بڑی جہنم ان کا انتظار کر رہی ہے۔