خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 9 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 9

خطبات طاہر جلد 17 9 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء کچھ ایسی دوائیں ، جیسے حکمت کی باتیں میں کر رہا تھا ، خدا تعالیٰ مجھے عطا فرمادے جن کے بعد آپ کو درس میں یا جمعہ پر خشک ہونٹوں کی تر باتیں سننے سے کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں مگر باتیں تر ہیں ان میں کہیں ذرہ بھی خشکی کے کوئی آثار آپ نہیں دیکھیں گے۔پس دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ جس طرح بھی ہو اپنے فضل اور رحم کے ساتھ اس رمضان کو بہتر سے بہتر حالت میں آگے بڑھا تا رہے اور مجھے اس کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخشے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ جو قرض مانگتا ہے تو اس سے یہ مراد نہیں ہوتی ہے کہ معاذ اللہ، اللہ تعالیٰ کو حاجت ہے اور وہ محتاج ہے۔ایسا وہم کرنا بھی کفر ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جزا کے ساتھ واپس کروں گا۔یہ ایک طریق ہے اللہ تعالیٰ جس سے فضل کرنا چاہتا ہے۔“ الحکم جلد 6 نمبر 17 صفحہ: 7 مؤرخہ 10 مئی 1902ء) اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ طریق اختیار فرمایا ہے یعنی تمہیں آزماتا ہے، ایسی آزمائش میں ڈالتا ہے جو تمہارے لئے بہت بابرکت ہے تم اپنے پیسوں کو جو دُنیا میں پھینکتے پھرتے ہو کبھی وہ فائدے کے ساتھ واپس لوٹ آتے ہیں۔کبھی، بلکہ اکثر جو سود خور ہیں ان کے تو ضرور نقصان میں جاتے ہیں لیکن عام تاجروں کے روپے فائدے کے ساتھ واپس آتے اور بڑھتے ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اللہ نے تمہیں ایک ایسی تجارت عطا فرما دی ہے کہ تم اس کو قرضہ دو اور قرضہ حسنہ ہوا کرتا ہے کوئی سود کی شرط نہیں ہوا کرتی۔جب دو تو اس نیت سے دو کہ اللہ ! ہماری خوشی ہے تو پورا فرما۔ہم چاہتے ہیں کہ جو رزق تو نے عطا فرمایا ہے کچھ تیرے قدموں میں ڈال دیں اور اس سے ہمیں بے انتہا طمانیت نصیب ہوگی اگر تو قبول فرما لے۔یہ جذبہ ہے جس کے ساتھ قرضہ حسنہ دیا جاتا ہے لیکن جس کو آپ دیتے ہیں اس جذبہ کے خلوص کے مطابق وہ جوابی کارروائی کرتا ہے۔جتنا سچا یہ جذ بہ ہو اس کی قبولیت اس مال کو بڑھا کر واپس کرنے کے نتیجہ میں ظاہر ہوتی ہے۔پس جن لوگوں کا تھوڑا دیا بھی بہت برکتیں حاصل کر لیتا ہے۔یہ ان کے خلوص کی طرف اشارہ ہے۔جن لوگوں کا زیادہ دیا بھی اتنی برکتیں حاصل نہیں کرتا یہ ان کے خلوص کی کمی کی طرف اشارہ ہے۔اللہ تعالیٰ بہر حال ان دونوں پر نظر رکھتا ہے اور جتنا چاہے بڑھا دیتا ہے۔بڑھانے کی مثالیں موجود ہیں کہ اس طرح بڑھاتا ہے،