خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 8 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 8

خطبات طاہر جلد 17 8 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء نے پایا ہے اس میں شریک کرنے کی کوشش کریں تو اللہ تعالیٰ اس میں کمی نہیں آنے دے گا۔میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا بعض عطائی نسخے والے سینہ بسینہ لوگوں کی بھلائی کے راز لئے پھرتے ہیں اور چھپا کے رکھتے ہیں۔یہ صرف مشرق کا حصہ نہیں مغرب میں بھی بہت بڑی بڑی کمپنیاں اسی جرم میں مبتلا ہوتی ہیں کہ وہ راز کی باتیں جس کے نتیجہ میں اُن کا کوئی مال دُنیا میں شہرت پالیتا ہے اسے اتنی مضبوطی سے قفل بند رکھتے ہیں کہ کسی اور میں طاقت ہی نہیں ہوتی کہ اس کو پیش کر سکے حالانکہ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اور بھی رزق عطا کر دینا تھا لیکن اس طرف ان کی نظر نہیں جاتی۔ہمارے ملک میں بھی ایسے لوگ ہیں کوئی نسخہ ہی ہاتھ آ گیا تو سنبھال سنبھال کے رکھتے ہیں۔مجھے ملنے والے دلچسپ خطوں میں سے بعض ایسے خط بھی ہوتے ہیں کہ یہ نسخہ اب ہم آپ کو بتا رہے ہیں اسے احتیاط سے استعمال کریں لیکن دُنیا کو کانوں کان خبر نہ ہو کہ اتنا عظیم الشان نسخہ میرے ہاتھ آگیا ہے۔میں ان کے نسخے رڈ کر دیا کرتا ہوں۔میں کہتا ہوں اللہ نے مجھے تم سے بہت بہتر نسخے عطا فرمائے ہیں جنہیں میں کھل کر دُنیا کے سامنے پیش کر رہا ہوں، ذرہ بھر بھی کنجوسی نہیں ہے اور اس کے نتیجہ میں میر اعلم کم نہیں ہورہا، بڑھ رہا ہے اور ایسے خدا کے بندے جو اپنے علوم کے نتیجہ میں بعض راز پا جاتے ہیں وہ مجھے کھل کے لکھتے ہیں اور کہتے ہیں بے شک اس کا اشتہار عام دیں یہ بنی نوع انسان کی ملکیت ہے۔مجھے ایسے احمدی چاہئیں اور انہی کا ذکر ملتا ہے اس حدیث نبوی سی ایم میں کہ اپنی حکمت کو بے باک لوگوں کے لئے استعمال کر وہ بھی کم نہیں ہوگی۔ص مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُطْعِفَهُ لَةَ اضْعَافًا كَثِيرَةً وَ اللهُ يَقْبِضُ وَ يَبْقُطُ وَالَيْهِ تُرْجَعُونَ۔(البقرة: 246) یہ الحکم سے میں نے کچھ اقتباسات ایک دو لئے ہیں تا کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے مضمون کو آپ حضرت اقدس مسیح موعود کے الفاظ میں سن لیں۔(رمضان کے روزے کے باعث منہ خشک ہونے کی وجہ سے بعض الفاظ کی صیح طور پر ادائیگی میں دقت پیش آرہی تھی اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور نے فرمایا : ) منہ خشک ہونے کی وجہ سے یہ بولنے میں جو بعض دفعہ دقت ہوتی ہے یہ تو پہلے ہی ہمیشہ میں نے بتایا ہے ہوا کرتی تھی اور اپنے باپ اور بڑے بھائی سے میں نے یہی ورثہ پایا ہے لیکن اس کا نقصان کوئی نہیں ہے۔پہلے تو قہوہ یا گرم پانی کے ذریعہ ہونٹوں کو تر کر دیا جاتا تھا۔اب روزہ کی وجہ سے ممکن نہیں ہے اس لئے میں کوشش کر رہا ہوں آپ دعا کریں کہ