خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 10 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 10

خطبات طاہر جلد 17 10 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء اس طرح بڑھاتا ہے، اس طرح بڑھاتا ہے لیکن آخر پر یہی فرماتا ہے کہ جس کے لئے چاہے اس سے بھی زیادہ ، اور زیادہ کی تعیین نہیں ، یعنی اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ آپ شمار نہیں کر سکتے لیکن جتنا زیادہ ہوتا ہے اللہ کی راہ میں پیش کرنے کی خواہش بھی اسی طرح بڑھتی چلی جاتی ہے۔وہ زیادہ جس کے بعد خدا کی خاطر خرچ کرنے کی خواہش مٹ جائے وہ زیادہ ایک بڑی آزمائش ہے۔دعا کریں اللہ تعالیٰ کبھی آپ کو اور مجھے ایسی بڑی آزمائش میں نہ ڈالے۔اب ایک اور حوالہ ہے الحکم جلد 5 نمبر 21 صفحہ 3 مؤرخہ 10 جون 1901ء سے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ایک نادان کہتا ہے کہ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللهَ قَرْضًا حَسَنًا (البقرة: 246) کون شخص ہے جو اللہ کو قرض دے ) اس کا مفہوم یہ ہے کہ گویا معاذ اللہ خدا بھوکا ہے۔“ بعض لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں یعنی دشمن اسلام اکثر اور بعض مسلمان نادان بھی یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ دیکھو کیسا اعلان ہے مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا۔اللہ کوئی بھوکا ہے جسے قرض کی ضرورت ہے۔آپ فرماتے ہیں: احمق نہیں سمجھتا کہ اس سے بھوکا ہونا کہاں سے نکلتا ہے؟ یہاں قرض کا مفہوم اصل تو یہ ہے کہ ایسی چیزیں جس کے واپس کرنے کا وعدہ ہوتا ہے اُس کے ساتھ افلاس اپنی طرف سے لگالیتا ہے۔یہاں قرض سے مراد یہ ہے کہ کون ہے جو خدا تعالیٰ کو اعمال صالحہ دے۔اللہ تعالیٰ ان کی جزا اُسے کئی گنا کر کے دیتا ہے۔“ اب افلاس کارڈ کرنے کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بہت نکتہ کی بات فرمائی ہے۔فرمایا قرضہ حسنہ کو مال سے محدود کیوں کرتے ہو۔قرضہ حسنہ کا اکثر حصہ تو تمہارے اپنے اعمال سے تعلق رکھتا ہے۔تم نیک اعمال اختیار کرو تو اللہ کا پیٹ بھر جائے گا، کون سی بھوک مرے گی اس کی لیکن وہ اس کی جزا تمہیں ایسی دے گا کہ تمہاری بھوکیں مٹ جائیں گی۔پس یہ نکتہ بہت ہی عمدہ اور بہت ہی عظیم نکتہ ہے کہ قرضہ حسنہ کو دنیاوی رزق تک محدود نہ کرو۔قرضہ حسنہ کا زیادہ تعلق تمہارے اعمال کی اصلاح سے ہے۔اللہ کے حضور جب تم نمازیں اخلاص سے پڑھتے ہو، اللہ کے حضور جب تم روزے اخلاص سے رکھتے ہو، اللہ کے حضور جب دوسری نیکیاں تم اخلاص سے بجالاتے ہو تو یہ قرضہ حسنہ ہے کیا اس سے خدا کا نَعُوذُ بِاللہ من ذالک پیٹ بھرے گا۔تمہارے اعمال کی وہ پھر جزا