خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 7
خطبات طاہر جلد 17 7 خطبہ جمعہ 2 جنوری 1998ء اگر اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں یعنی ایمان لانے والوں کی کسی خوبی پر نظر رکھتے ہوئے یا اپنی عنایت کی وجہ سے ان کو بچانا چاہے اور وہ اموال کے معاملہ میں کنجوسی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے اموال برباد ہونے شروع ہو جاتے ہیں تا کہ ٹھوکر کھا کر ان کو نصیحت آئے اور بسا اوقات ایسے لوگوں نے بالآخر مجھے خط لکھا کہ ہم یہ کیا کرتے تھے لیکن اب ہمیں نصیحت آگئی ہے اور جب سے ہم نے خدا کی راہ میں کنجوسی چھوڑی ہے ہمارے اموال میں دوبارہ برکت پڑنی شروع ہو گئی ہے لیکن وہ لوگ جن کو خدا تعالیٰ ضائع سمجھتا ہے، بیکار، خشک لکڑیاں جانتا ہے ان کو ضرور کاٹ کے الگ پھینک دیا کرتا ہے اور پھر ان کے اموال ترقی کرتے ہیں اور کرتے چلے جاتے ہیں لیکن جماعت کو ان کی کوڑی کی بھی پرواہ نہیں ہوتی۔وہ اپنے اموال سمیت جہاں چاہیں چلے جائیں جماعت کے خزانہ میں ایک آنے کی بھی کمی نہیں کر سکتے اور ان کی جگہ اللہ اور بھیج دیتا ہے۔پس یہ وہ سلوک ہے جو ہم سے جاری ہے اور یہ حدیث در اصل اسی مضمون کو بیان کر رہی ہے۔دو حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی ا یہ تم نے فرمایا: دو شخصوں کے سوا کسی پر رشک نہیں کرنا چاہئے۔( وہ کون ہیں جن پر رشک کرنے کی اجازت ہے ) ایک وہ آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور اس نے اسے راہ حق میں خرچ کر دیا۔“ ایسے شخص پر بے شک رشک کرو۔اگر چہ ایسے اشخاص اپنے اس خرچ کو چھپاتے ہیں ، چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ ظاہر ہو بھی جاتا ہے اور اللہ کی تقدیرا سے ظاہر کر دیا کرتی ہے بعض دفعہ اس لئے تا کہ دوسروں کو نصیحت ہو۔پس جب ان کو دیکھو تو ان پر رشک کرو۔دوسرا ایسا شخص جسے اللہ تعالیٰ نے سمجھ ، دانائی اور علم و حکمت دی ہو جس کی مدد سے وہ وو لوگوں کے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو سکھاتا ہو۔“ (صحیح البخاری، کتاب الزكاة، باب انفاق المال في حقه حدیث نمبر : 1409) تو دانائی اور علم و حکمت کو بنی نوع انسان کے حق میں استعمال کرنا چاہیئے اور یہ بھی ایک ایسا خرچ ہے جس کے نتیجہ میں دانائی اور علم و حکمت میں ترقی ہوتی ہے۔یہ خدا کے عطا کردہ مال کی طرح جو ہمیشہ بڑھتا ہے یہ بھی بڑھتی رہتی ہے اور جتنا بھی آپ بنی نوع انسان کی خاطر کچھ خرچ کریں یا جو کچھ آپ