خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 142 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 142

خطبات طاہر جلد 17 142 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء کے دلوں میں کوئی اشارہ تک نہیں ہوتا ان میں سے ان کی ہر قسم کی اللہ تعالیٰ حفاظت فرماتا ہے اور ان کو مدد دیتا ہے جو مدد کے دوسرے راستے کاٹ ڈالتے ہیں۔تو ان آیات میں جو گہرا فلسفہ ہے کہ آپ کی دعائیں کیسے مقبول ہونگی وہ کھول کر بیان فرمایا گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تمام باتیں قرآن کریم کی آیات کی تفسیر ہی ہیں ان سے ہٹ کر نہیں۔پس وہ آیات جو ہم روز پڑھتے چلے جاتے ہیں اور پڑھتے چلے جاتے ہیں مگر ان کے مرکزی نکتہ کو نظر انداز کرتے چلے جاتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بار بار اس طرف نظر کو پھیرتے ہیں اور توجہ دلاتے رہتے ہیں جیسا کہ فرمایا ” اس لئے دل کو جگا جگا کر غور کرنا چاہئے۔یہ امور ایسے نہیں ہیں جن کو سادہ آدمی نہ سمجھ سکیں، جن کو سمجھنے کے لئے کسی صاحب عرفان بڑے عالم کی ضرورت ہو۔یہ سارے وہ امور ہیں جن کا تعلیم یافتہ ، غیر تعلیم یافتہ ، ہوشیار اور سادہ سب سے برابر کا تعلق ہے اور سب ان کو برابر سمجھ سکتے ہیں۔اگر یہ نہ ہوتا تو اسلام کی یہ تعلیم صرف چیدہ چیدہ انسانوں کے لئے ہوتی اور عوام الناس جو خدا ہی کے بندے ہیں ان پر یہ تعلیم چسپاں نہ ہو سکتی۔مگر میرا یہ مذہب ، میرا کامل یقین ہے کہ یہ تعلیمات اپنے اندر جتنی بھی گہرائیاں رکھیں ان میں ڈوبنے کے امکانات تو بہت موجود ہیں مگر اپنی سطح پر بھی وہ پیغام دے رہی ہیں جو ہماری نجات کے لئے ضروری ہے اور ہماری نجات کے لئے کافی ہے۔پس جو باتیں میں آپ سے بیان کرتا ہوں ہرگز ایسی نہیں کہ ان کو سمجھنے کے لئے عالم ہونا ضروری ہو۔سادہ انسانی تجربوں میں میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور انہی سادہ انسانی تجربوں کے حوالہ سے آنحضرت صلی اسلام اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مومنوں کو نصیحت فرمائی ہے۔اب جہاں تک پرواہ نہ کرنے کا تعلق ہے وہ مضمون بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرمارہے ہیں۔پہلے میں نے اس مضمون سے بات شروع کی تھی جہاں بے انتہا پر واہ ہے اور اب بے پرواہی کی باتیں بھی سن لیں۔اللہ تعالیٰ کسی کی پرواہ نہیں کرتا، مگر صالح بندوں کی۔“ ان دو فقروں میں ایک ایسا آپ کو تضاد دکھائی دے گا جو اونٹ والے واقعہ سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ پرواہ نہیں کرتا مگر صالح بندوں کی۔وہ بندہ، وہ گناہ گار جس کا ذکر اس صحرائی اونٹ کے واقعہ میں بیان ہوا ہے اس پر آپ غور کر کے دیکھیں کہ خدا کی خوشی اس وقت ہوتی ہے جب وہ خدا کا بندہ