خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 143
خطبات طاہر جلد 17 143 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء لوٹتا ہے جیسے گمشدہ اونٹ کے لوٹنے پر اس کے مالک کو خوشی ہوتی ہے۔جو غائب ہو جائے اس کے نتیجہ میں اس کو کوئی خوشی حاصل نہیں ہوتی۔تو یہاں پر واہ کا مضمون اس طبعی محبت و اطمینان سے تعلق رکھتا ہے جس کی گویا خدا راہ دیکھ رہا ہے۔پس یہ مطلب نہیں ہے کہ صرف صالح بندوں کی پرواہ کرتا ہے اور گناہ گاروں کی نہیں پرواہ کرتا۔وہ گناہ گاروں کی پرواہ ان معنوں میں کرتا ہے کہ کسی وقت تو وہ پلیٹیں اور کسی وقت تو صالح بندے بننے کی کوشش کریں۔یہ بات ہے جو اس ظاہری تضاد کو دور کرتی ہے۔فرمایا اگر تم اس کے صالح بندے بننا چاہتے ہو ایسے بندے جن کی وہ بے حد پرواہ کرے گا تو پھر آپس میں ایک دوسرے کی پرواہ شروع کر دو۔اگر تم آپس میں ایک دوسرے کی پرواہ نہیں کرو گے تو اللہ بھی تمہاری پر واہ چھوڑ دے گا۔آپس میں اخوت اور محبت پیدا کرو اور درندگی اور اختلاف کو چھوڑ دو۔ہر ایک قسم کے ہنرل اور تمسخر سے مطلقاً کنارہ کش ہو جاؤ۔“ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو بہلانے کے لئے ہلکی پھلکی گفتگو نہ کرو، لطائف بیان نہ کرو، یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اپنی تحریرات اور اپنے سوانح سے مختلف ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام بھی بسا اوقات مجالس میں ، بعض دفعہ مناظروں میں بھی لطائف بیان فرما یا کرتے تھے اور آپ کی عبارت میں بھی ایک ایسی لطافت تھی جو دل کو ہلکا پھلکا کرتی ہے۔تو تمسخر اور ہنرل اور چیزیں ہیں۔تمسخر اور ہنرل میں ہمیشہ کسی دوسرے کی تخفیف مراد ہوتی ہے۔کسی شخص کو اپنے سے ادنی جاننے کے نتیجہ میں کسی شخص کو گھٹیا سمجھنے کے نتیجہ میں اگر آپ کوئی مذاق کریں تو یہ ہنرل اور تمسخر کی ذیل میں آئے گا۔اس قسم کے ہنرل اور تمسخر تکبر سے پیدا ہوتے ہیں اور تکبر بدترین گناہ ہے۔پس جب بھی آپ سوسائٹی کے حالات پر غور کریں آپ کو وہاں مختلف قسم کے لطیفہ گو دکھائی دیں گے۔بعض ایسے لطیفہ گو ہیں جو بات کی لطافت کی لذت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں پھر ساری مجلس ہنسی سے زعفران بن جاتی ہے۔تو کسی شخص واحد کے ذلیل ہونے کا تصور نہیں ہوتا۔سوسائٹی میں کسی ایک پر حملہ مقصود نہیں ہوتا ایسے لطائف کو ہنزل نہیں کہا جاتا لیکن کچھ لطیفہ گو ایسے ہوں گے جو آپ اب غور کریں تو شناخت کرلیں گے وہ ہمیشہ ایسی بات کرتے ہیں جس سے آپ میں سے کسی بھائی کی تذلیل مراد ہوتی ہے اور وہ بڑا ہنستے ہیں کہ وہ اس قسم کا آدمی ہے،