خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 141
خطبات طاہر جلد 17 141 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء ملک عدم کی طرف لوٹنے کا وقت آجاتا ہے یا ملک عدم تو یونہی محاورہ ہے آخرت کی زندگی کی طرف لوٹنے کا وقت آجاتا ہے لیکن خدا کے بچے اور پاک لوگ خصوصاً انبیاء توحید کی اس قسم سے تعلق رکھتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بیان فرما رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھا دیتے ہیں اور اپنے وجود کو اس کی عظمت میں محو کر دیتے ہیں۔یہ جو تعلق ہے یہ ہر قسم کی اصلاح کی قدرت رکھتا ہے۔جو توحید کے لئے اپنے نفس کی اغراض کو اُٹھا دے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو توحید سے متصادم اغراض ہیں ان کی کوئی بھی حیثیت نہ دیکھے۔وہ ساری زندگی توحید کے مطابق ہو جائے گی۔اس سے بہتر علاج ان بیماریوں کا نہیں ہے جو اس سے پہلے بیان کی جاتی رہی ہیں۔توحید کی خاطر اپنے نفس کی اغراض کو بیچ سے اٹھا دے۔اللہ تعالیٰ سے توحید کا تعلق مانگے اور اپنی نفسانی اغراض کی طلب نہ کرے۔توحید باری تعالیٰ اس کی اغراض پر نگاہ رکھے گی اور جو غرض وہ پوری فرمائے گا وہی حقیقت میں ہمارے فائدے کی غرض ہوگی۔جیسا کہ حضرت موسیٰ کی دعا میں نے بارہا آپ کو یاد دلائی ہے رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَى مِنْ خَيْرٍ فَقِيرُ۔(القصص: 25) یہ نہیں کہا کہ میری یہ غرض ہے اور میری یہ غرض ہے ، میری وہ غرض ہے۔اغراض تو اس دعا میں مضمر ہیں لیکن فرمایا جو تو پسند فرمائے وہ غرضیں پوری کر دے تو اس دعا کے نتیجہ میں دیکھیں آپ کو سب کچھ حاصل ہو گیا۔دُنیا بھی حاصل ہوئی اور آخرت بھی حاصل ہوگئی۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس فقرہ میں یہی بات بیان فرما رہے ہیں کہ اپنے نفس کی اغراض اللہ کے تعلق میں اپنی نظر سے اٹھا دو۔ان کو اُٹھا کر ایک طرف کر دو پیچھے صرف توحید کی محبت باقی رہ جائے گی اور جب توحید کی محبت میں آپ اپنی اغراض کو ایک طرف پھینکیں گے تو اللہ آپ کی اغراض کا نگران ہو جائے گا۔اللہ لازماً آپ کی مدد فرمائے گا۔كُلا من هؤلاء وهؤلاء مضمون بھی ہے۔ان خدا تعالیٰ کی طرف سے فضل پانے والوں کے ساتھ ، ہر گروہ کے ساتھ اللہ کا ایک مدد دینے کا تعلق ہے اور مدد اس کو دے گا جو خدا کی مدد کے سوا کسی اور مدد کا سہارا نہیں ڈھونڈیں گے۔یہ بھی توحید کی ایک قسم ہے۔پس بہت سے دعائیں کرنے والے اپنی دعاؤں کے ماحصل سے غافل ہوتے ہیں یعنی جوان کی دعاؤں کو پھل لگنا چاہئے وہ نہیں لگتا اور ان کو نہیں پتا چلتا کہ کیوں نہیں لگ رہا۔حلا تست هؤلاء وهؤلاء میں وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ وہ آخرت کی سعی کرتے ہیں یعنی دُنیا طلبی کا ان