خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 138 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 138

خطبات طاہر جلد 17 138 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء دفتر میں آگئی ، ایک بات کرنی تھی۔اس نے کہا ابا یہ ڈاک آپ دیکھتے ہیں روزانہ، میں تو ساری عمران خطوں کا جواب نہیں دے سکتی۔اگر ساری عمر میں لکھوں تو میں ان خطوں کا جواب نہیں دے سکوں گی۔وہ ایک الگ مسئلہ ہے مگر میں بتانا چاہتا ہوں کہ ساری ڈاک بے چینیوں سے بھری پڑی ہوتی ہے کسی کو کوئی بے چینی لگی ہوئی ہے، کسی کو کوئی بے چینی لگی ہوئی ہے اور تمام بے چینیاں آرزوؤں کی ناکامی پر گواہ ہیں۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”انسان بہت آرزوئیں اور تمنائیں رکھتا ہے مگر غیب کی قضاء وقدر کی کس کو خبر ہے۔(غیب سے اللہ کی تقدیر ظاہر ہو اس کو کون جانتا ہے ) زندگی آرزوؤں کے موافق نہیں چلتی تمناؤں کا سلسلہ اور ہے قضاء وقدر کا سلسلہ اور ہے۔“ کتنی سادہ سی ، دل میں اتر جانے والی حقیقت کا بیان ہے مگر یہ سادہ سی دل میں اتر جانے والی حقیقت ہمیشہ فراموش کر دی جاتی ہے یہ مصیبت ہے جو تربیت کی راہ میں حائل ہے۔پس ایسے لوگ جو بڑے غور سے میرے خطبات کو سنتے ہیں کہ جھوٹ کے قریب نہیں جانا، یہ کرنا ہے وہ کرنا ہے اور واقعۂ دلی ایمان سے سر ہلاتے ہیں کہ ہاں ہم نہیں کریں گے اور واپس جاتے ہیں تو ان کو پتا بھی نہیں لگتا کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں کیونکہ عادت اتنی گہری ہے جھوٹ کی کہ کسی نہ کسی موقع پر کسی نہ کسی بہانے جھوٹ ضرور سراٹھالیتا ہے تو ایک جھوٹ ہی کے خلاف جہاد جو ہے بڑی محنت کو چاہتا ہے اور یہ وہ جہاد ہے جو ہر شخص کو اپنے دل میں کرنا چاہئے۔اس پہلو سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باقی تحریر میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔فرماتے ہیں: اور وہی سچا سلسلہ ہے۔(جو قضاء و قدر کا سلسلہ ہے ) خدا کے پاس انسان کے سوانح یچے ہیں۔“ الحکم جلد 2 نمبر 3 صفحہ:1 مؤرخہ 13 مارچ 1898ء) عظیم الشان ایک عرفان کا سمندر اس فقرہ میں ڈوبا ہوا ہے۔فرماتے ہیں خدا کے پاس انسان کے سوانح بچے ہیں۔ایک سوانح وہ ہیں جو ہم دنیا میں لکھتے ہیں اور پڑھتے ہیں۔فلاں کی زندگی کے حالات ، فلاں کی زندگی کے حالات اور ان میں بہت ہی احترام کے ساتھ ، محبت کے ساتھ ، مبالغہ کے ساتھ اور بعض چیزوں کی پردہ پوشی کرتے ہوئے ایک مرحوم کا ذکر خیر ملتا ہے لیکن بلا شبہ اس کی زندگی کا