خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 137 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 137

خطبات طاہر جلد 17 137 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء سارے اقدامات کئے ہوں بلکہ میرا پہلا رد عمل عراق کے متعلق صدر کلنٹن کے بیانات سے یہی تھا کہ ان کے اوپر جو گندے حملے کئے گئے ہیں جن کی تحقیق اگر ہوا انصاف کے ساتھ ، تو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صدر کلنٹن صدر رہنے کے اہل نہیں رہیں گے۔بعض امریکن چوٹی کے وکلا کا بھی یہی خیال ہے کہ صدر کلنٹن کے متعلق اگر وہ الزامات ثابت ہو جا ئیں جن کے متعلق بھاری امکان ہے کہ ثابت ہو جائیں تو ان کو جیل میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔اب دُنیا کے ایک بلند ترین ، مادی لحاظ سے بلند ترین طاقتور ملک کے صدر کا یہ حال ہو کہ اس کے اوپر ایک تلوار لٹکی ہو جس کو معلوم ہو کہ اگر سنجیدگی کے ساتھ قانونی کارروائیاں کی جائیں تو بعید نہیں کہ میں صدارتی محل کی بجائے کسی جیل کی کوٹھڑی میں چلا جاؤں اس کا دل بے چین ہی تو ہوگا ، اس کی آرزوئیں اس کی کوئی بھی مدد نہیں کر سکتیں۔پس وہ رد عمل جو میرے دل میں پیدا ہوا کہ قوم کی توجہ ہٹانے کے لئے اور از سر نو قوم کا ہیرو بننے کے لئے اور یہ فائدہ حاصل کرنے کے لئے کہ قوم مجرم سمجھے بھی تو اس موقع پر اپنے قومی ہیرو کو معلق خطرات سے الگ کر دے اس لئے یہ عراق والی کارروائی شروع ہوئی ہے اور یہ جو میرا تاثر ہے اس کی تائید میں بہت سے امریکن دانشور بھی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اس وقت صدر کلنٹن کا بچنا عراق والے اقدامات کی وجہ سے ہے اور بھاری اکثریت جو اس صدر کی تائید کر رہے ہیں ان سے جب یہ پوچھا جائے کہ آپ ان کو اس معاملہ میں مجرم سمجھتے ہیں کہ نہیں؟ کہتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن ہمیں پرواہ کوئی نہیں۔صدر کی افادیت دوسری جگہ اتنی بڑی ہے کہ ہمیں اس چیز کی پرواہ نہیں کہ ان اخلاقی معاملات میں یہ مؤاخذہ کے لائق ہو۔اب اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سارے امریکہ کی اخلاقی حالت ہی گر چکی ہے اور اس گری ہوئی اخلاقی حالت کے بعد اخلاقی کمزوریاں وہ رد عمل پیدا نہیں کرتیں جو آج سے پچاس سال پہلے یا سو سال پہلے رد عمل پیدا کیا کرتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ آرزوؤں اور تمناؤں سے تمہاری زندگیاں ڈھالی نہیں جاتیں۔اگر آرزوؤں اور تمناؤں سے زندگیاں ڈھالی جاتیں تو دنیا میں کوئی بھی بے چین دکھائی نہ دیتا اور اب اگر تلاش کرو تو چین رکھنے والا آدمی مشکل ہی سے ملے گاٹٹولنے کی بات ہے۔اگر کریدو اور ٹولو تو معلوم ہوگا کہ ہر شخص مصیبتوں میں مبتلا ہے اور جو دعاؤں کی ڈاک اکٹھی ہوتی ہے اس کو کوئی ایک نظر سے دیکھ لے تو اس کو اندازہ ہو جائے گا۔میں ایک دفعہ ڈاک دیکھ رہا تھا تو میری بچی