خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 139
خطبات طاہر جلد 17 139 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء وہ پہلو نہیں اچھالا جاتا جو دراصل حقیقی اندرونی پہلو ہے اور نہ اس کو اچھالنے کی کسی کو اجازت ہے۔نہ کسی کو اس اندرونی پہلو تک رسائی ہے۔پس اذْكُرُوا فَحَاسِنَ مَوتَاكُمْ “ (سنن الترمذي، أبواب الجنائز، باب آخر (فی الامربن کر محاسن الموتى۔۔، حدیث نمبر : 1019) کی نصیحت میں جہاں خیر کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے یعنی نیکی کے ساتھ موتی کا ذکر کیا کرو وہ ہم اسی پر عمل کریں گے۔گو ہم اسی پر عمل کریں گے اور بدیاں نہیں اچھالیں گے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ بات اپنی جگہ اسی طرح قائم ہے کہ خدا کے پاس انسان کے سوانح بچے ہیں۔“ بہت ہی پیارا فقرہ ہے، بہت ہی دل ہلا دینے والا فقرہ ہے کہ ہمارے مرنے کے بعد جتنی مرضی لوگ ہماری تعریفیں کریں اور ہمیں اٹھا کر کہیں سے کہیں پہنچا دیں مگر ہماری زندگی کے وہ راز جو بھیا نک راز ہیں جن تک صرف ہماری یا ہمارے بعض عزیز ترین قریبیوں کی رسائی ہے اس پر بھی تو کوئی سوانح لکھے اگر لکھنے کی اجازت ہو تو پھر ایک اور انسان کی تصویر ابھرے گی جو نہایت بھیانک ہوگی۔ایسی تصویر ہوگی کہ ظاہری سوانح کے مقابل پر دل بے اختیار پکاریں گے کہ یہ سوانح بچے ہیں اور وہ سوانح جھوٹے تھے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان سوانح کی اشاعت کی تحریک نہیں فرمار ہے، فرمارہے ہیں ان سوانح پر تم آگاہ ہو جو خدا کے ہاں بچے ہیں۔ہر انسان کو خبر ہے ان سوانح کی۔ہر انسان اگر چاہے تو اپنے دل میں ڈوب کر ان سوانح کی تفاصیل سے از سر نو آگاہ ہوسکتا ہے۔از سرنو اس لئے کہ اکثر وہ جب دل میں ڈوبتا ہے تو اپنی نیکیوں کی باتیں ہی سوچتا ہے ، اپنی بڑائی کے تذکرے ہی سوچتا ہے، یہی سوچتا ہے کہ مجھے دوسرے پر کیا فضیلت حاصل ہے۔پس قرآن میں جن آیات میں فضیلت کا ذکر ملا تھا وہی فضیلت ہے جو دھو کے کا موجب بھی بن جاتی ہے۔اللہ نے تو فضیلت عطا فرمائی مگر جس کو عطا فرمائی وہ اپنی فضیلت کے تذکروں میں ہی ڈوبا رہتا ہے اور اپنے دعووں کی تلاش نہیں کرتا۔جو سوانح خدا کے ہاں بچے ہیں وہ سوانح ایسے ہیں کہ اس کی ان تک رسائی ہوسکتی ہے کیونکہ اسی نے تو بنائے ہیں، ان سوانح کا خاکہ اسی کے اعمال ہی نے تو کھینچا ہے۔پس اس پر غور کے بغیر کوئی سچی توبہ نصیب نہیں ہوسکتی اور کوئی سچی فضیلت حاصل نہیں ہوسکتی۔اس لئے دل کو جگا جگا کر غور کرنا چاہئے۔“