خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 136 of 970

خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 136

خطبات طاہر جلد 17 136 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء وقت کے حصہ کو میں الگ کر دیتا ہوں۔اس لئے آج ہی آپ میں سے جن جماعتوں تک میری آواز پہنچ رہی ہے، یہ انتظار نہ کریں کہ میں دن چاہئیں یا ایک مہینہ کا نوٹس چاہئے ، آج ہی اپنے میں سے متقی لوگوں کو چن کر گوٹن برگ (Gothenburg) کی طرف روانہ کر دیں۔اگر آج نہ کر سکیں تو کل تک وہاں پہنچ جائیں تا کہ سارے سویڈن کی نمائندگی میں ان کی آئندہ مرکزی مجلس عاملہ کا انتخاب ہو۔پس میں اُمید رکھتا ہوں کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کریں گے اور وہاں یہ سارے نمائندے انشاء اللہ تعالیٰ اکٹھے ہو چکے ہوں گے۔جو نئی روح قائم ہونی ضروری ہے اس میں محبت کے رشتہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔پہلی سب کدورتوں کو کلیہ کا لعدم کر دیں جیسا کہ وہ تھیں ہی نہیں اور پیار اور محبت کے رشتوں پر اس نئے نظام کو مضبوط ڈوروں میں باندھیں اور جب بھی کسی بھائی کے خلاف کوئی دل میں کدورت پیدا ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ان اقتباسات کو یاد کر لیا کریں جواب میں آپ کے سامنے پڑھ کر سنانے لگا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس جاری تھا جب ( گزشتہ خطبہ ختم ہوا۔وہ حصہ جو رہتا ہے میں وہاں سے پڑھ کے سناتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں: ”انسان بہت آرزوئیں اور تمنائیں رکھتا ہے مگر غیب کی قضاء وقدر کی کس کو خبر ہے۔زندگی آرزوؤں کے موافق نہیں چلتی۔یہ ایک بہت ہی اہم پیغام یا نصیحت ہے جماعت کے لئے کہ آپ کی آرزوؤں کو اختیار ہی نہیں ہے کہ آپ زندگی ڈھال سکیں۔ہزار ہا آرزو میں دل میں پیدا ہوتی ہیں ، ہزار ہا تمنا ئیں انسان کرتا ہے لیکن اس کی زندگی اس کے مطابق نہیں ڈھلتی۔ساری دُنیا کا معاشرہ بے چین ہے۔اگر آرزوؤں کو طاقت ہوتی کہ زندگی کو اپنے مطابق ڈھال لیں تو دنیا میں ایک فرد واحد بھی بے چین دکھائی نہ دیتا جبکہ دُنیا کی بڑی بڑی حکومتوں کے سربراہ بھی اور امیر ترین آدمی بھی دل کے اندر ایک بے چینی محسوس کرتے ہیں۔اس کا اظہار کریں نہ کریں لیکن جب بھی اظہار کے مواقع آتے ہیں ان سے یہی سنا جاتا ہے کہ وہ بے چین ہیں۔اس وقت دُنیا کی سب سے بڑی مملکت یعنی طاقتور مملکت امریکہ سنی جاتی ہے لیکن صدر کلنٹن کا حال دیکھ لیں اس کو کیا کیا بے چینیاں لاحق ہوئی ہوئی ہیں اور عراق کے معاملہ میں جو صدر کلنٹن کا ردعمل تھا ہر گز بعید نہیں کہ ذاتی بے چینیوں کا رخ موڑنے کی خاطر اس نے یہ