خطبات طاہر (جلد 17۔ 1998ء) — Page 129
خطبات طاہر جلد 17 129 خطبہ جمعہ 27 فروری1998ء جماعت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تصور کے مطابق ڈھلنے کی تلقین ( خطبه جمعه فرموده 27 فروری 1998ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ کی تلاوت کی: وَمَنْ اَرَادَ الْآخِرَةَ وَسَعَى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَبِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مشكوران كُلًّا تُبِدُّ هَؤُلَاءِ وَ هُؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ وَمَا كَانَ عَطَاء رَبَّكَ مَحْظُورًا أنْظُرُ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَ لَلْآخِرَةُ أَكْبَرُ دَرَجتِ واكْبَرُ تَفْضِيلا پھر فرمایا: (بنی اسرائیل : 20 تا 22 یہ وہ آیات ہیں جن کی میں نے تلاوت کی ہے اور جن کا میرے آج کے خطبہ کے مضمون سے تعلق ہے۔مگر اس سے پہلے کہ میں ان آیات کی کچھ تفسیر بیان کروں مناسب ہوگا کہ میں ان کا لفظی ترجمه یا تقریباً لفظی ترجمہ آپ کے سامنے پیش کردوں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَنْ اَرَادَ الْأَخِرَةَ جو بھی آخرت کا ارادہ کرے اس میں جو سے مراد شخص واحد بھی ہو سکتا ہے اور عموماً لوگ۔جیسے مَنْ کے اندر جمع بھی داخل ہوتی ہے تو جو لوگ بھی یا جو بھی آخرت کا ارادہ کرے۔وَسَعَى لَهَا سَعِيهَا اور آخرت کے لئے اپنی کوششوں کو وقف کر دے جو کچھ بھی اس کو تو فیق ہے اس کے مطابق وہ آخرت کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔وَهُوَ هُو من لیکن شرط یہ ہے کہ مومن ہو۔فَأُولَبِكَ كَانَ سَعْيُهُمْ